انوارالعلوم (جلد 25) — Page 34
انوار العلوم جلد 25 34 سیر روحانی (8) اپنے مبلغ کو لکھ دیں کہ جہاز پر آکر مجھ سے وہ لفافہ لے جائے۔اسی طرح اُس نے آپ کو جو مخفی پیغام بھیجنا ہو وہ مجھے دے دے میں آپ کو پہنچا دیا کروں گا۔پھر کہنے لگا آپ کو خیال پیدا ہو گا کہ وہ مجھ تک کس طرح پہنچے اور میں اُس کو کس طرح دوں ؟ اس پر کس طرح اعتبار کیا جا سکتا ہے ؟ اس کے لئے میں آپ کو ایک تجویز بتاتا ہوں۔چنانچہ اُس نے اپنا ایک کارڈ نکالا۔یہ وزٹنگ کارڈ کہلاتے ہیں جو یورپین لوگ ملتے وقت ایک دوسرے کو دکھاتے ہیں۔اس پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا ہو تا ہے اور اُس کا عہدہ وغیرہ درج ہوتا ہے جب کسی کو ملنا ہوتا ہے تو وہ کارڈ اندر بھجوا دیتے ہیں کہ فلاں افسر ملنے آیا ہے۔غرض اُس نے اپنا وزٹنگ کارڈ نکالا اور اُس کو بیچ میں سے پکڑ کر دو ٹکڑے کر دیا۔جب کارڈ کو دو ٹکڑے کیا جائے تو ہر کارڈ الگ شکل اختیار کر لیتا ہے۔کوئی 1/1000 اینچ ادھر سے پھٹتا ہے کوئی 1/1000 اینچ اُدھر سے پھٹتا ہے۔کوئی ذرا ادھر سے نیچا ہو جاتا ہے کوئی اُدھر سے نیچا ہو جاتا ہے اس طرح تھوڑا بہت فرق ضرور ہو جاتا ہے اور دونوں حصوں کو ملانے سے فوراً پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ کار ڈاسی کا حصہ ہے کسی دوسرے کارڈ کے ساتھ وہ نہیں لگ سکتا۔غرض اس کارڈ کو پھاڑ کر وہ کہنے لگا میں آپ کو اطلاع دونگا کہ میں فلاں تاریخ کو بمبئی پہنچ جاؤں گا آپ کا آدمی آئیگا اور وہ میرا نام لے کر کہے گا کہ فلاں چیف انجینئر صاحب ہیں؟ میں کہوں گا ہاں میں ہوں۔پھر وہ میرے پاس آئے گا اور آکر مجھے کہے گا آپ کو امام جماعت احمدیہ نے خط بھیجا ہے۔میں کہوں گا میں امام جماعت احمدیہ کو جانتا ہی نہیں۔وہ کون ہیں میں تو بالکل اُن کا واقف نہیں۔وہ کہے گا نہیں آپ اُن کے واقف ہیں۔چنانچہ ایک کارڈ جو آپ نے براہ راست میرے پاس بھیجا ہو گا اس کا دوسرا ٹکڑا وہ اپنی جیب سے نکال کر کہے گا۔یہ لیجئے میں اپنی جیب میں سے کارڈ نکال کر ملاؤ نگا جب وہ مل جائیں گے تو میں کہوں گا۔ہاں ہاں میں جانتا ہوں کیا لائے ہو میرے لئے ؟ پھر وہ لفافہ مجھے دے دیگا۔ادھر آپ ایک دوسر اکارڈ کاٹ کر میرے پاس بھیجدیں گے اور ایک اپنے انگلستان کے مبلغ کو بھیج دیں گے۔جب میں فرانس یا اٹلی پہنچوں گا تو اُس کو خبر دونگا کہ ہمارا جہاز پہنچ گیا ہے یا فلاں تاریخ کو پہنچ جائے گا۔