انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 438

انوار العلوم جلد 25 438 قرون اولیٰ کی مسلمان خا پھر تیسرا نازک ترین وقت آپ کی زندگی میں وہ آیا جب عرب کے تمام قبائل نے متحد ہو کر ایک بڑا لشکر مدینہ پر چڑھائی کے لئے بھیجا۔اس وقت مدینہ کے بعض یہودی قبائل بھی جو بظاہر مسلمانوں کے حلیف تھے دشمن کے ساتھ مل گئے تھے اس وقت بھی ایک عورت ہی تھی جس نے ہمت سے کام لیا اور دشمن کے حملہ کو ناکام کر دیا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس موقع پر مدینہ کے یہودی بھی مشرکین مکہ کے ساتھ مل گئے تھے اور باہر سے بیس سے چوبیس ہزار کے در میان تعداد میں دشمن کا لشکر حملہ آور ہو رہا تھا۔اس کے مقابلہ میں جو مسلمان تھے اُن کی تعداد صرف بارہ سو تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی غداری کا علم ہوا تو چونکہ مستورات ان یہودیوں کے اعتبار پر اُس علاقہ کی طرف رکھی گئی تھیں جدھر یہودی قبائل کے قلعے تھے اور اب وہ بغیر حفاظت کے تھیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حفاظت ضروری سمجھی اور بارہ سو کے قریب لشکر میں سے پانچ سو سپاہیوں کو عورتوں کی حفاظت کے لئے مقرر فرما دیا لیکن اس سے پہلے تمام عور تیں غیر محفوظ تھیں۔ایک دن دشمن نے شدید حملہ کیا جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اطمینان سے نماز بھی نہ پڑھ سکے۔دشمن سامنے سے حملہ کر رہا تھا اور یہودی اس بات کی تاڑ میں تھے کہ کوئی موقع مل جائے تو بغیر مسلمانوں کے شبہات کو اُبھارنے کے وہ مدینہ کے اندر گھس کر مسلمان عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں۔چنانچہ ایک دن یہودیوں نے ایک جاسوس بھیجا تا کہ وہ معلوم کرے کہ عور تیں اور بچے اکیلے ہی ہیں یا خاصی تعداد سپاہیوں کی اُن کی حفاظت کے لئے مقرر ہے۔جس خاص احاطہ میں خاص خاص خاندانوں کو جن کو دشمن سے زیادہ خطرہ تھا جمع کر دیا گیا تھا اس کے پاس اس جاسوس نے منڈلانا شروع کر دیا اور چاروں طرف دیکھنا شروع کیا کہ آیا مسلمان سپاہی ارد گرد کہیں پوشیدہ تو نہیں۔وہ اس تاڑ میں ہی تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ نے اُسے دیکھ لیا۔اتفاقاً اُس وقت ایک ہی مسلمان وہاں تھا جو بیمار اور کمزور دل تھا۔حضرت صفیہ نے اُسے کہا کہ یہ آدمی دیر سے عورتوں کے علاقہ میں