انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 242

انوار العلوم جلد 25 242 سیر روحانی نمبر (9) نوکر ہیں ؟ اندر عورت بھیجو جو دیکھے کہ بیوی کے پاس زیور ہے؟ اُس نے آکے کہا کہ ٹھیک ہے۔اُس نے اُسی دن اُس تھانیدار کو ڈسمس کر دیا اور نکال دیا۔اب دیکھو وہ پاگل بنا اور اُس نے اپنا بدلہ لے لیا مگر یہ تو جٹ کے متعلق کہتے ہیں۔اللہ تو ہمارا کامل ہے وہ تو نہ سید ہے نہ پٹھان ہے نہ مغل ہے ، نہ جٹ ہے۔مگر قرآن کہتا ہے اُس میں یہ بھی صفت ہے کہ وہ جب چاہے بات کو بھلا دیتا ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ رَحمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ میری رحمت ساری چیزوں پر حاوی ہے اگر اللہ تعالیٰ کافروں کے متعلق بھلا دے گا تو مومنوں کے متعلق کیوں نہ بھلائے گا۔اُس کی تو رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔پس ہماری نجات کا ذریعہ یہی ہے کہ خدا ہمارے خیالات کو بھلا دے، ہماری کمزوریوں کو بُھلا دے، ہمارے نقصوں کو بھلا دے اور اس وقت ایسا بن جائے کہ وہ کہہ دے مجھے نہیں پتہ میرے بندے نے کیا کیا ہے۔جیسے احادیث میں آتا ہے کہ اعْمَلُوا مَا شِئْتُم 7 جاؤ جاؤ جو مرضی ہے کرو میں دیکھتا ہی نہیں، میں نے آنکھیں وام بند کر لی ہیں۔تو مجھے اس تلاوت سے یہ نقطہ سو جھا۔پہلے طبیعت گھبر ائی پھر دل نے کہا کہ تیرا واسطہ اسی خدا سے نہیں جو کہ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ہے۔بلکہ اُس خدا سے بھی ہے جو اپنے متعلق کہتا ہے کہ فَنَسِيَهُم وہ ان کفار کو بھول گیا اگر وہ ان کفار کو بھول گیا تو مومن پر رحمت کرنے کے لئے جب کہ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُل شَيْءٍ آیا ہے وہ کیوں نہ اس کے گناہ بھول جائے گا۔وہ بھی کہہ دے گا کہ جاؤ ہم نے آنکھیں بند کر لیں۔مجھے پتہ تو ہے پر آج ہم ایسے انجان بن جاتے ہیں کہ گویا ہمیں کچھ پتہ نہیں۔کل کی تقریر میں میں نے اخبارات و رسائل خریدنے کی تحریک الفضل کے متعلق تحریک کرنی تھی کہ الفضل ہمارے سلسلہ کا بڑا اہم آرگن ہے اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے لیکن میں بھول گیا۔میں تو اس لئے بھول گیا کہ بیماری میں مجھے بھولنے کی مرض ہو گئی ہے۔ہمارا خدا سب کچھ جانتا ہے۔وہ بھی کبھی کبھی مصلحتنا بندوں کے فائدہ کے لئے بھول جاتا ہے یا اپنے