انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 240

انوار العلوم جلد 25 240 سیر روحانی نمبر (9) دس نیکیاں لکھ دیں۔اسی طرح گنا تا چلا جائے گا۔جب کئی دفعہ گنا چکے گا اور بات ختم کرے گا تو بندہ دلیر ہو جائے گا اور آگے بڑھ کر کہے گا۔حضور ! آپ تو بھولا نہیں کرتے میری تو بہت سی بدیاں باقی ہیں اور میرے تو اس سے بہت بڑے بڑے گناہ باقی ہیں۔ان چھوٹی چھوٹی بدیوں کے بدلہ میں آپ نے پانچ پانچ دس دس نیکیاں دی ہیں تو اس طرح تو میری ہزاروں نیکیاں ابھی باقی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔میرا بندہ میرے عفو کو دیکھ کر کتنا دلیر ہو گیا ہے اب آپ ہی اپنے گناہ گنانے لگ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرشتوں کو فرمائے گا میرے اس بندے کو جنت کے دروازوں پر لے جاؤ (جنت کے کئی دروازے مختلف درجوں کے لوگوں کے لئے ہوں گے) اور اس بندے کو اختیار دینا کہ جس دروازہ میں چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔تو دیکھو! خدا تعالیٰ کے بھلانے کی صفت بھی کتنی کمال کی ہے۔جس طرح یاد رکھنے کی صفت ایسی ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا اسی طرح بھلانے کی طاقت بھی اس میں کمال درجے کی ہے۔ہم بھلانا چاہیں تو نہیں بھلا سکتے۔فکر لگتی ہے تو لگتی ہی چلی جاتی ہے۔جیسے مجھے بیماری میں ڈاکٹر یہی کہتے ہیں کہ بھلا دو اور میں ان سے کہتا ہوں بھلاؤں کس طرح؟ کوئی اس کی دوائی بھی ہے؟ وہ کہتے ہیں اس کی دوائی تو کوئی نہیں آپ زور لگائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ میں یہ طاقت ہے وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم بعض چیزوں کو بھلا دیں گے کیونکہ ہم نہیں چاہیں گے کہ وہ ہمارے سامنے آئیں۔گو وہ آیت ہے تو دشمنانِ دین کے متعلق اور کفار کے متعلق مگر اس سے اتنا تو پتا لگ گیا کہ خدا میں بھلانے کی صفت ہے۔وہ صفت جو کافروں کے لئے ہے وہ ہمارے بھی کام آسکتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ خبیر ہے لیکن اُس میں یہ بھی طاقت ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے بھلا دے۔سو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات مومن بندے کے لئے بڑی خوشی کا موجب ہو جاتی ہے۔جب وہ یہ سوچتا ہے کہ میں بڑا گناہ گار ہوں، بڑا کمزور ہوں پر میر امالک اور میرا آقا جہاں خبیر اور علیم ہے۔وہاں ناسی بھی ہے بھول بھی جاتا ہے۔یو نہی تو نہیں بھولتا۔رضی ہوتی ہے تو بھلا دیتا ہے۔