انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 234

انوار العلوم جلد 25 234 سیر روحانی نمبر (9) کہ عورت کی آواز نہ نکلے اس کو اندر بند کر دو۔ذرا کہیں عورت بولتی تھی تو جھٹ دروازے کے آگے کھڑے ہو کر مرد کہتے ہولی بولو ہولی بولو باہر آدمی ہن" گویا عور تیں آدمی ہی نہیں جنات ہیں۔صرف اپنے آپ کو وہ آدمی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ "باہر آدمی بہن ہولی بولو" ہم نے ان کو موقع دیا کہ ہولی نہ بولو تقریریں کرو اور پھر تقریریں ہی نہ کر ولاؤڈ سپیکر پر تقریریں کرو۔تو وہ پانی پی پی آپھرنے لگ گئیں"۔پھر وہ اتنا گلا پھاڑتی ہیں کہ مرد بیچارے شرمندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ان کے سامنے بالکل پیچ ہو جاتے ہیں۔چنانچہ مردوں کی تقریریں ہوتی رہیں لیکن کوئی لفظ کان میں نہیں پڑا لیکن عورتوں کا جلسہ گاہ سامنے ہے۔آئندہ منتظم جلسہ گاہ عورتوں کے لاؤڈ سپیکر کا منہ دوسری طرف کریں ہمارے مکان کی طرف نہ کریں تا کہ اپنے کان پھڑوانے کا کچھ حصہ دوسرے محلہ والے بھی لے لیں سارا میرے حصہ میں نہ آئے۔میں نے اس سال کافی حصہ لے لیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ مجھے پھر کوئی جلسہ دیکھنے کی توفیق دے تو یہ کان پھاڑنے والا حصہ اس محلہ والوں کو ملے میرے حصہ میں نہ آئے کیونکہ اس بیماری کی وجہ سے میرے کان بھی کمزور ہو گئے ہیں جیسے آنکھ کمزور ہوئی ہے۔پس بار بار اور متواتر آواز پڑنے کی وجہ سے بھی سخت صدمہ پہنچتا ہے اور تشویش سی پیدا ہو جاتی ہے۔چیزیں ٹھیک نظر نہیں آتیں اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔تو آئندہ کے لئے بجائے لاؤڈ سپیکروں کے منہ ادھر کو ٹھی کی طرف کرنے کے دوسری طرف کریں تا کہ وہ آواز پرے کی طرف جائے۔اسی طرح کسی دوست نے شکایت کی ہے کہ عور تیں کہتی ہیں کہ ہم کو تو کوئی زیارت کا موقع نہیں ملا۔اب تو میں بیمار ہوں جب تندرست تھا تب بھی میں کہتا تھا کہ مجھے عورتوں میں تقریر کرنے دو مگر کرنے نہیں دیتے تھے کہ کوئی شرارتی شرارت نہ کرے۔مگر اتناڈرنا بھی اچھا نہیں ہوتا۔اصل میں تو کوئی بے احتیاطی ہوئی ہے ورنہ بیعت تین دفعہ ہو چکی ہے۔میں بر آمدہ میں جاکر کھڑا ہو جاتا ہوں اور بیعت کے الفاظ بولتا چلا جاتا ہوں۔میری بیوی اُن الفاظ کو دُہراتی جاتی ہیں۔نیچے ایک اور خاتون اونچی آواز سے دُہراتی جاتی ہیں