انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 186

انوار العلوم جلد 25 186 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو غور سے پڑھتے ہیں، سلسلہ کا لٹریچر غور سے پڑھتے ہیں قرآن شریف اور حدیث غور سے پڑھتے ہیں بغیر اس کے کہ اُن کو کوئی بڑا علم آتا ہو وہ دنیا کے بڑے سے بڑے عالم پر غالب آ جاتے ہیں اور کوئی شخص ان کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔مجھے یاد ہے لندن میں ہمارے ایک مبلغ ہوتے تھے چودھری ظہور احمد باجوہ۔وہ آجکل ناظر رشد و اصلاح ہیں اُن کے ساتھ بعض دفعہ لوگوں کی گفتگو ہوتی تھی۔بعض دفعہ انگریزوں کی اور بعض دفعہ جو بڑے بڑے ہوشیار اور جہاندیدہ پیغامی مبلغ ہیں اُن کی۔جب وہ سوال و جواب آتا تو ہمیشہ ان کا خط پڑھ کر میر ادل کا نپتا تھا کہ یہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں مگر ہمیشہ ہی میں نے دیکھا کہ جب میں ان کا جواب پڑھتا تھا تو دل خوش ہو جاتا تھا۔وہ ایسا مکمل اور اعلیٰ جواب ہو تا تھا کہ میر ادل مانتا تھا کہ اس شخص کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی ہے۔تو سلسلہ کا لٹریچر پڑھو۔عام طور پر سلسلہ کا لٹریچر چھاپنے والوں کو شکایتیں ہیں کہ لوگ ہم سے کتابیں نہیں لیتے حالانکہ یاد رکھو روٹی نہ لو تو کوئی حرج نہیں لیکن سلسلہ کی کتابیں لینا اور ان کو پڑھنا بڑی اہم چیز ہے۔پس ان کتابوں کو پڑھو تا کہ اپنی زندگی میں خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔اب میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو برکت والا کرے اور جو باتیں اس میں کہی جائیں۔وہ سب نیک اور مفید ہوں جو تقریر کرنے والے ہیں ان کو خدا تعالیٰ توفیق دے کہ نیک اور صحیح اور اچھی باتیں کہیں۔اور سننے والے ان تمام نیک اور صحیح اور اچھی باتوں کو اپنے دل میں اس طرح داخل کر لیں کہ پھر وہ وہاں سے نہ نکلیں اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کے اور ان کی نسلوں کے کام آتی رہیں۔اور ہمارے نوجوان خصوصاً جو بچے وغیرہ آئے ہیں اُن کو خدا تعالیٰ ایسی توفیق دے کہ جب وہ جلسہ سے اٹھیں تو وہ عمر میں تو بچے ہوں لیکن عقل اور ایمان میں بڑھے ہو چکے ہوں تاکہ ان کے ذریعہ ایک نئی ابراہیمی نسل چلے۔تم میں سے ہر بچہ اگر اپنے دل میں یہ عہد کر لے کہ میں نے ابراہیم بننا ہے ، میں نے علی بننا ہے ، میں نے بیچی بننا ہے تو پھر وہی کچھ وہ بن جائے گا۔