انوارالعلوم (جلد 25) — Page 84
انوار العلوم جلد 25 84 سیر روحانی (8) "نہیں لائے بھینس " اُس نے کہنا لائے تو ہو ، وہاں کھڑی ہے بھینس۔وہ کہتے کمبخت ! تجھے م کہہ رہے ہیں ہم نہیں لائے یہ تم نے کہنا ہے۔وہ کہتا کہ میں کس طرح کہوں جب بھینس وہاں کھڑی ہے۔انہوں نے کہنا ہم بھائیوں کی خاطر تم جھوٹ نہیں بولو گے ؟ اس نے کہنا کہ جھوٹ تو میں نہیں بولوں گا بولوں گا تو سچ ہی۔انہوں نے خوب کوٹنا اور کوٹ کاٹ کے سمجھنا کہ اب اس کو اچھا سبق آ گیا ہے چنانچہ اسے پکڑ کر اُن کے سامنے لے جانا۔انہوں نے بھی دیکھ لینا کہ خوب کوٹا ہوا ہے۔انہوں نے پوچھنا کہ کیوں بھئی بھینس لائے ہیں ؟ وہ کہتا جی ہاں لائے ہیں وہاں کھڑی ہوئی ہے۔پھر انہوں نے کہنا تجھے اتنا مارا تھا مگر پھر بھی تجھے سبق نہیں آیا۔وہ کہتا جب وہ کھڑی ہوئی ہے تو میں کیا کرتا۔اب دیکھو وہ اسے کافر کہتے تھے لیکن ساتھ ہی اُسے سچ بولنے میں ایک نمونہ بھی سمجھتے تھے۔اس طرح کسی ایک خُلق کو لے لو اور اس میں اپنے آپ کو اتنا نمایاں ثابت کرو کہ سارا محله، سارا دفتر، سارا علاقہ کہے کہ یہ اس بات میں سچا ہے۔ہمارے کئی بزرگ گزرے ہیں ان کا تاریخی طور پر واقعہ آتا ہے کہ باپ مثلاً بزاز تھا اور وہ کپڑا جو بیچنے لگا تو بیٹا کہنے لگا ابا کیا کر رہے ہیں ؟ اس میں تو فلاں جگہ پر داغ پڑا ہوا ہے۔اب وہ گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں کہ کیا کہہ رہا ہے لیکن اس نے پھر یہی کہنا کہ نہیں نہیں داغ میں نے آپ دیکھا تھا۔اس کا اثر یہ تھا کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بیٹا جو بات کرے گاوہ ٹھیک ہو گی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ اسی طرح ہے۔ان کے اندر فطرتِ صحیحہ پائی جاتی تھی۔باپ تو ان کے فوت ہو چکے تھے۔چچا تھے جو اُن کو پالتے تھے۔وہ بت خانہ کے افسر بھی تھے اور بت بھی بنا بنا کر بیچا کرتے تھے اور لوگ ان سے بت لینے آتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی انہوں نے دکان پر بٹھا دیا کہ یہ لڑکا ذرا تجارت کا واقف ہو جائے۔وہ اپنے پچیرے بھائیوں کے ساتھ دکان پر بیٹھنے لگ گئے۔ایک دن کوئی بڑھا آیا اور اس نے آکر کہا کہ میں نے ایک بت لینا ہے۔کوئی ستر اسی سال کا بڑھا تھا لڑکوں نے جو دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہا کہ آپ چن لیجئے کون سا پسند ہے۔اُس نے اِدھر اُدھر دیکھ کے اوپر ایک بت رکھا ہوا تھا اُس کی طرف اشارہ کیا اور کہنے لگا مجھے یہ پسند۔