انوارالعلوم (جلد 25) — Page 83
انوار العلوم جلد 25 تاریں سنانے کے بعد فرمایا: - 83 سیر روحانی (8) پہلے بھی میں دعا کے لئے کہہ چکا ہوں اب احباب سب مل کر دعا کر لیں۔میں بوجہ کمزوری صحت کے زیادہ نہیں بول سکتا۔یوں بھی اب میرا اگلا کچھ بیٹھ رہا ہے بہر حال اب جلسہ ختم ہے اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے پھر ایک سال ہم کو اکٹھا ہونے کا موقع دے دیا۔اب سب دوست مل کر دعا کر لیں۔اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہونے کی اجازت ہو گی۔مگر یہ اب کہ فیصلہ کریں کہ ہر شخص کچھ نہ کچھ اخلاقی حالت میں تغیر پیدا کرنا اپنے ذمہ لگالے اور یہ عہد کرلے کہ میں نے یہ ضرور قربانی کرنی ہے۔کوئی سچ پر ہی قائم ہو جائے، کوئی پر دے پر ہی قائم ہو جائے، کوئی تعلیم پر ہی قائم ہو جائے۔غرض کوئی نہ کوئی چیز عملی طور پر لے لے جس سے کہ ہم دنیا کے سامنے نمونہ پیش کر سکیں اور کہہ سکیں کہ ہماری جماعت اس چیز کو قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔یہ کوئی ضروری نہیں کہ ساری نیکیاں کسی میں موجود ہوں۔چاہے ایک ہی نیکی نمونہ کے طور پر ہو۔چاہے سچ ہی کسی میں پورے طور پر آجائے تو وہی بڑا اثر پیدا کر لیتا ہے بعد میں دوسری نیکیوں کی باری باری توفیق مل جائے گی۔۔ہمارے ایک احمدی ہیں میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ان کا خاندان چور تھا اب تو وہ پنشن لے کر بھی آگئے ہیں۔چنیوٹ کے پاس ہی رہنے والے ہیں۔جب احمدی ہوئے تو انہوں نے بُری باتوں کو چھوڑ دیا اور سچ بولنے لگ گئے۔جب ان کے بھائیوں نے یا باپ نے بھینس وغیرہ پچر ا کر لائی یا جانور لائے تو لوگوں نے آکر کہنا کہ تم لائے ہو کیونکہ وہ مشہور چور تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم تو نہیں لائے۔قسمیں کھانی، قرآن کھانا اور یہ ان کے نزدیک بالکل آسان بات تھی۔آخر انہوں نے کہنا ہم نہیں مانتے ہاں یہ لڑکا گواہی دے دیوے تو پھر ہم مان لیں گے۔وہ جانتے تھے کہ یہ احمدی ہو گیا ہے جھوٹ نہیں بولتا۔انہوں نے کہنا کہ اس کا فر کی گواہی کیا لینی ہے یہ تو کافر ہے اس کی کیا گواہی ہے۔انہوں نے کہنا نہیں اسی کا فر کی گواہی مانی ہے۔ہے تو یہ کافر پر بولتا سچ ہے۔جو کچھ یہ کہہ دے گاوہ مانیں گے۔اب اس کو انہوں نے الگ لے جانا اور جا کر کہنا کہ دیکھو! تم نے کہنا ہے !