انوارالعلوم (جلد 25) — Page 488
انوار العلوم جلد 25 488 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات اس طرح وہ پونے چار کروڑ روپیہ جمع کر لیتے ہیں۔لیکن آپ لوگ باوجود اس کے کہ اتنا بوجھ اٹھاتے ہیں کہ کوئی اپنی ماہوار تنخواہ کا چھ فیصدی چندہ دیتا ہے اور کوئی دس فیصدی چندہ دیتا ہے اور پھر بارہ ماہ متواتر دیتا ہے آپ کا چندہ پندرہ بیس لاکھ بنتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری تعداد عیسائیوں سے بہت تھوڑی ہے۔اگر ہمارے پاس پونے چار کروڑ روپیہ ہو جائے تو شاید ہم دو سال میں عیسائیت کی دھجیاں بکھیر دیں۔اس تھوڑے سے چندہ سے بھی ہم وہ کام کرتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ گئی ہے۔چنانچہ عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے جن کے اقتباسات الفضل میں بھی چھپتے رہتے ہیں کہ احمدیوں نے ہمارا ناطقہ بند کر دیا ہے۔جہاں بھی ہم جاتے ہیں احمدیت کی تعلیم کی وجہ سے لوگ ہماری طرف توجہ نہیں کرتے۔اور نہ صرف نئے لوگ عیسائیت میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ہم سے نکل نکل کر لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔نائیجریا اور گولڈ کوسٹ کے متعلق تو یہ رپورٹ آئی ہے کہ وہاں جو لوگ احمدی ہوئے ہیں ان میں سے زیادہ تر تعداد عیسائیوں سے آئی ہے۔سیر الیون اور لائبیریا سے بھی رپورٹ آئی ہے کہ عیسائی لوگ کثرت سے احمدیت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان میں لوگ زیادہ تر مسلمانوں سے آئے ہیں کیونکہ یہاں مسلمان زیادہ ہیں اور عیسائی کم ہیں لیکن وہاں چونکہ عیسائی زیادہ ہیں اس لئے زیادہ تر احمدی عیسائیوں سے ہی ہوئے ہیں۔چنانچہ مغربی افریقہ میں احمدیت کی ترقی کے متعلق گولڈ کوسٹ یونیورسٹی کالج کے پروفیسر جے سی ولیم سن نے اپنی ایک کتاب " مسیح یا محمد" میں لکھا ہے کہ "اشانٹی گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصوں میں عیسائیت آجکل ترقی کر رہی ہے لیکن جنوب کے بعض حصوں میں خصوصاً ساحل کے ساتھ ساتھ احمد یہ جماعت کو عظیم فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔یہ خوش کن توقع کہ گولڈ کوسٹ جلد ہی عیسائی بن جائے گا اب معرض خطر میں ہے اور یہ خطرہ ہمارے خیال کی وسعتوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاصی تعد اد احمدیت کی طرف کھنچی چلی جارہی ہے اور یقیناً( یہ صورت) عیسائیت کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔"