انوارالعلوم (جلد 25) — Page 428
انوار العلوم جلد 25 428 قرون اولیٰ کی مسلمان خو آجکل انگریزوں کی حکومت ہے مگر اس کی فوج ایک صحابی کو قید کر کے لے گئی تو اُن کی بہن اکیلی ہی باہر نکلی اور کئی میل تک رومی سپاہیوں کے پیچھے چلی گئی اور پھر بڑی کامیابی سے اپنے بھائی کو اُن کی قید سے چھڑالائی اور مسلمانوں کو اِس بات کا اس وقت پتہ لگا جب وہ اپنے بھائی کو واپس لے آئی۔پھر ایک اور واقعہ بھی ہے جس سے عورتوں کی بہادری کا پتہ چلتا ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص صحابہ میں سے تھے۔حضرت عمرؓ نے انہیں اپنے زمانہ خلافت میں ایرانی فوج کے مقابلہ میں اسلامی فوج کا کمانڈر بنایا تھا۔اتفاقاً اُنہیں ران پر ایک پھوڑا نکل آیا جسے ہمارے ہاں گھمبیر کہتے ہیں اور وہ لمبے عرصہ تک چلتا چلا گیا۔بہتیر اعلاج کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر انہوں نے خیال کیا کہ اگر میں چارپائی پر پڑا رہا اور فوج نے دیکھا کہ میں جو اس کا کمانڈر ہوں، ساتھ نہیں، تو وہ بد دل ہو جائے گی چنانچہ انہوں نے ایک درخت پر عرشہ بنوایا جیسے ہمارے ہاں لوگ باغات کی حفاظت کے لئے بنالیتے ہیں۔آپ اس عرشہ میں آدمیوں کی مدد سے بیٹھ جاتے تا مسلمان فوج انہیں دیکھتی رہے اور اسے خیال رہے کہ اس کا کمانڈر ان کے ساتھ ہے۔انہی دنوں آپ کو اطلاع ملی کہ ایک عرب سردار نے شراب پی ہے۔شراب اگرچہ اسلام میں حرام حرام تھی مگر عرب لوگ اس کے بہت عادی تھے اور اگر اس کی عادت پڑ جائے تو جلدی چھٹتی نہیں۔ابھی اُن کے اسلام لانے پر دو تین سال کا ہی عرصہ گزرا تھا اور دو تین سال کے عرصہ میں اس کی عادت نہیں جاتی۔بہر حال حضرت سعد بن ابی وقاص کو جب اس مسلمان عرب سردار کے متعلق اطلاع ملی کہ اس نے شراب پی ہے تو آپ نے اُسے قید کر دیا۔ان دنوں با قاعدہ قید خانے نہیں ہوتے تھے۔جس شخص کو قید کرنا مقصود ہوتا اُسے کسی کمرہ میں بند کر دیا جاتا اور اس پر پہرہ مقرر کر دیا جاتا۔چنانچہ اس مسلمان عرب سردار کو بھی ایک کمرہ میں بند کر دیا گیا اور دروازہ پر پہرہ لگا دیا گیا۔وہ سال تاریخ اسلام میں مصیبت کا سال کہلاتا ہے کیونکہ مسلمانوں کا جنگ میں بہت نقصان ہوا تھا۔ایک جگہ پر اسلامی لشکر کے گھوڑے دشمن کے ہاتھیوں سے