انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 343

انوار العلوم جلد 25 343 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات قرآن کریم کی تفسیریں لکھ لکھ کر جماعت کو دے رہا تھا اور اکثر حصوں کی طباعت کا خرچ بھی اپنے پاس سے دے رہا تھا۔یہ وہ (دنیا) ہے جو اس ناخلف بیٹے کے قول کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے لئے مانگی تھی اور اولاد کو خدا کے سپر د کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت خلیفہ اول کا خاندان جماعت کے روپے پر پلتا رہا اور دنیا کے کاموں میں مشغول رہا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بڑا بیٹا جماعت سے ایک پیسہ لئے بغیر اس کے اندر قرآنِ کریم کے خزانے لٹاتا رہا۔یہ فرق ہے آقا کی دعا کا اور غلام کی دعا کا۔جس کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ دنیا میں بہت سے تخت اترے پر تیر ا تخت سب سے اونچا رہا اور جس کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بر وز اور آپ کا شاگرد ہے 12 اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ 17 اللہ کا بہادر تمام نبیوں کے لباس میں اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا " دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا18 اور جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم سے لے کر آخر تک تمام انبیاء اس کی خبر دیتے آئے ہیں۔اس کی نظر تو اتنی کوتاہ تھی کہ اس نے اپنی اولاد کے لئے صرف دنیا کی دعا کی۔جس سے تسکین قلب حاصل نہیں ہوتی لیکن اس کا شاگرد جس کا منہ غلامی کا دعویٰ کرتے کرتے خشک ہو تا تھا اس بلند پایہ کا تھا اور خدا تعالیٰ کا ایسا مقرب تھا کہ اس نے اپنی اولاد کو خدا کے سپر د کیا۔یہی وہ سازش ہے جو حضرت خلیفہ اول کی وفات سے پیغامیوں نے شروع کی تھی چنانچہ مرزا خدا بخش نے اپنی کتاب عسل مصفی میں لکھا تھا کہ " بے مثل تھا وہ شاگر د (یعنی خلیفہ اوّل) جو تقویٰ اور طہارت میں اپنے استاد ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سے بھی بڑھ گیا لَعْنَت اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ) چنانچہ اس کے انعام میں پیغامیوں نے اس کو نو کر رکھ لیا اور اس کی کتاب عسل مصفی خوب بکوائی اور گو اس نے عبد الوہاب کی طرح فوراً معافی مانگنی شروع کر دی مگر نفاق کا معاف کرنا ایک خطرناک غلطی ہوتی ہے چنانچہ باوجو د اس کے کہ اس نے کتاب میں کچھ اصلاح کی۔میں نے اس کو معاف نہیں کیا اور جماعت نے بھی