انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 329

انوار العلوم جلد 25 329 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات نظر نہیں آئے گا کہ جب ان کے لئے غیرت دکھانے والے اپنی ماؤں کے گھٹنے کے ساتھ لگے ہوئے ایس ایس کر رہے تھے اُس وقت میں ہی تھا جو تن من دھن کے ساتھ غیر مبائعین کے ساتھ اُن کی خاطر لڑ رہا تھا جنہوں نے اُن کی زندگی میں ہی ظاہر اور پوشیدہ ان کی مخالفت شروع کر دی تھی۔اور جیسا کہ حوالوں سے ثابت ہے کہ کہتے تھے کہ مولوی صاحب سترے بہترے ہو گئے ہیں، اب ان کی عقل ماری گئی ہے اب ان کو معزول کر دینا چاہئے۔یہ سب باتیں نیز صاحب مرحوم نے سنیں جبکہ پیغامی مقبرہ بہشتی میں گئے ہوئے تھے۔نیر صاحب فوت ہو چکے ہیں لیکن اور کئی لوگ زندہ ہیں اور اُس زمانے کے لڑیچر میں بھی کہیں کہیں یہ حوالے مل جاتے ہیں۔مجھے تو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا جیسا کہ الفضل میں وہ خواب چھپ چکی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حفاظت کے لئے میرے بچوں کو اپنی جانیں دینی پڑیں گی۔میرے لئے اس سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں ہو سکتی خواہ یہ جانیں دینا لفظی ہو یا معنوی۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام نے اسماعیل قرار دیا ہے اور بائیبل میں لکھا ہے کہ اُس کے بھائیوں کی تلوار اُس کے مقابلہ میں کھنچی رہے گی 10۔پہلے اسماعیل کا تو مجھے معلوم نہیں لیکن میں اپنے متعلق جانتا ہوں کہ جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کا سوال پیدا ہوا جیسا کہ لاہوریوں کے کیس میں ہوا تھا تو میری تلوار بھی تمام دنیا کے مقابلہ میں کھینچی رہے گی اور عزیز ترین وجو دوں کو بھی معنوی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے میں دریغ نہیں کروں گا۔کیونکہ ظاہری تلوار چلانے سے ہم کو اور حضرت مسیح موعود کو روکا گیا ہے اور ہمیں بشدت تعلیم دی گئی ہے خواہ تمہیں کتنی ہی تکلیف دی جائے کسی دشمن کا جسمانی مقابلہ نہ کرنا۔ہاں دعاؤں اور تدبیروں سے اُن کے گند ظاہر کرنے کی جتنی کوشش کر سکتے ہو کرو۔مجھے تو خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ کارروائیاں کروائیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام تھا جس کو حضرت (اماں جان) نہیں سمجھی تھیں اور گھبر اگئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر اُن کے ہاتھ حضرت خلیفہ اوّل