انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 10

انوار العلوم جلد 25 10 سیر روحانی (8) اگر میری بیوی مر جاتی تو مجھے زیادہ صدمہ ہو تا یا الفضل نہیں پہنچا تو اس سے زیادہ صدمہ ہوا ہے۔تم اس سے اندازہ لگا سکتے ہو کہ کس قدر اُس کو لگاؤ تھا۔یہ تو ایک عام آدمی تھا۔کہہ دو گے کہ شاید اُس کو زیادہ واقفیت نہیں ہو گی مگر اب ملک کے ایک چوٹی کے آدمی کا واقعہ سن لو۔ابو الکلام صاحب آزاد اُنہی دنوں میں قید ہوئے۔اُن کے پاس یہ اخبار جاتا تھا۔اُن کے سیکرٹری کی مجھے چٹھی آئی کہ ابو الکلام صاحب آزاد کو گورنمنٹ نے نظر بند کر دیا ہے۔ان سے پوچھا گیا کہ ہم آپ کو ایک اخبار کی اجازت دیتے ہیں تو انہوں نے صرف "الفضل" کی اجازت مانگی ہے اور کہا ہے کہ " الفضل " مجھے با قاعدہ ملتار ہے۔تو آب دیکھو دوسرے لوگوں کے اوپر اس کا کس قدر اثر تھا۔دوسرے لوگوں پر اُس وقت اثر ہو سکتا تھا تو آج بھی ہو سکتا ہے۔تم اس کو زیادہ عمدہ بنانے کی کوشش کرو گے تو لوگوں میں آپ ہی آپ وہ مقبول ہو نا شروع ہو جائے گا۔تو بدر کے متعلق میں تحریک تو کر تا ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ نہ خرید و۔اگر کوئی شخص خریدنا چاہتا ہے اور ہندستان کے حالات معلوم کرنا چاہتا ہے اور قادیان کے حالات معلوم کرنا چاہتا ہے تو بے شک خریدے مگر میں اُس زور سے جیسے الفضل کی تحریک کرتا ہوں اس کی نہیں کرتا۔اس لئے کہ میرے نزدیک اس کا مقام ہندوستان ہے۔اگر ہم لوگ اس کو روپیہ دے کر کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو ضرورت ہی محسوس نہیں ہو گی کہ وہ ہندوستان میں اس کو مقبول بنائیں۔ا ریویو آف ریلیجنز تیسری چیز ہمارے ہاں ریویو ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد گار ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا پرچہ اور ایسا پرچہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود حصہ لیا تھا اور اس میں مضمون لکھے تھے سوائے ریویو کے جماعت میں اور کوئی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی کہ دس ہزار پرچہ کم سے کم شائع ہو لیکن اس وقت تک صرف ایک ہزار شائع ہوتا ہے اور وہ ہزار پرچہ بھی جماعت کا ممنونِ احسان نہیں۔ہزار پر چہ کی قیمت تحریک جدید دیتی ہے اور پھر اس کو عیسائی علاقوں میں یا دوسرے علاقوں میں مفت شائع کیا جاتا ہے۔جو خریدار جماعت کی طرف سے ملا ہے (اگر کوئی خریدار آجاتا ہے تو تحریک