انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 306

306 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات انوار العلوم جلد 25 مربی راولپنڈی کے بیان کے مطابق میاں عبد الوہاب صاحب نے اس کو ایک خط دیا تھا جس میں لکھا تھا کہ تم ہمارے بھائیوں کی طرح ہو اور ہماری والدہ بھی تم سے بہت محبت کرتی تھیں۔اگر ایسا کوئی خط تھا تو یہ بیان بالکل جھوٹ اور افترا ہے کیونکہ میاں عبد الوہاب کی والدہ اس شخص کو جانتی بھی نہ تھیں کیونکہ وہ ربوہ میں رہتی تھیں اور یہ شخص قادیان میں تھا اور جماعت کی پریشانی کا موجب بن رہا تھا۔نیز وہ تو وفات سے قبل ذیا بیطس کے شدید حملہ کی وجہ سے نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی رہتی تھیں اور ان کی اولاد ان کو پوچھتی تک نہ تھی اور میں ان کو ماہوار رقم محاسب کے ذریعہ سے علاوہ انجمن کے حضرت خلیفہ اول کی محبت اور ادب کی وجہ سے دیا کرتا تھا۔بلکہ جب میں بیمار ہوا اور یورپ گیا تو ان کی نواسیوں کو تاکید کر گیا تھا کہ ان کی خدمت کے لئے نوکر رکھو جو خرچ ہو گا میں ادا کروں گا۔بہر حال ایک طرف تو جماعت مجھے یہ خط لکھتی ہے کہ ہم آپ کی زندگی کے لئے رات دن دعائیں کرتے ہیں۔چنانچہ ایک شخص کا خط مجھے آج ملا کہ میں تیس سال سے آپ کی زندگی کے لئے دعا کر رہا ہوں۔دوسری طرف جماعت اس شخص کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے جو میری موت کا متمنی ہے۔آخر یہ منافقت کیوں ہے ؟ کیا میاں عبد الوہاب کا بھائی ہونا محض اس وجہ سے ہے کہ وہ شخص میری موت کا متمنی ہے ؟ کوئی تعجب نہیں کہ وہ مری میں صرف اس نیت سے آیا ہو کہ مجھ پر حملہ کرے۔جماعت کے دوستوں نے مجھے بتایا ہے کہ جب ہم نے اس کو گھر سے نکالا کہ یہ پرائیویٹ گھر ہے تمہیں اس میں آنے کا کوئی حق نہیں تو اس نے باہر سڑک پر کھڑے ہو کر شور مچانا شروع کر دیا تا کہ ارد گرد کے غیر احمدیوں کی ہمدردی حاصل کرے۔اب جماعت خود ہی فیصلہ کرے کہ میری موت کا متمنی آپ کا بھائی ہے یا آپ کا دشمن۔آپ کو دوٹوک فیصلہ کرنا ہو گا اور یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ جو اس کے دوست ہیں وہ بھی آپ کے دوست ہیں یا دشمن۔اگر آپ نے فوراً دوٹوک فیصلہ نہ کیا تو مجھے آپ کی بیعت کے متعلق دو ٹوک فیصلہ کرنا پڑے گا۔اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جس جماعت اور جماعت کے افراد کی طرف سے اس دشمن احمدیت اور اس کے ساتھیوں کے متعلق براءت کی چٹھیاں مجھے نہ ملیں تو میں ان کے خط پھاڑ کر پھینک دیا کروں گا اور ان کی درخواست دعا پر توجہ نہ کروں گا۔یہ کتنی بے شرمی ہے کہ ایک طرف