انوارالعلوم (جلد 25) — Page 5
انوار العلوم جلد 25 5 سیر روحانی (8) ہو جائے یا جب بھی نیکی میں آگے بڑھنے کی روح مفقود ہو جائے اُس وقت قوم یا مرنا شروع ہو جاتی ہے یا گر ناشروع ہو جاتی ہے۔لیکن جب تک تسابق کی روح کسی قوم میں قائم ہو اُس وقت تک خواہ وہ کتنی بھی ذلت میں پہنچی ہوئی ہو اور کتنی بھی گری ہوئی ہو پھر بھی چمک دکھلاتی چلی جاتی ہے اور اس کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ہمارے قریب کے بزرگان میں سے ایسے زمانہ میں جب مسلمانوں پر ایک قسم کے تنزل کی حالت آگئی تھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ تسابق کی وجہ سے ان لوگوں کے واقعات کو سن کر انسان کے دل میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔سید اسماعیل صاحب شہید جو تیرھویں صدی میں گزرے ہیں شاہ ولی اللہ صاحب کے وہ نواسے تھے اور سید احمد صاحب بریلوی کے مرید تھے۔سید احمد صاحب بریلوی سکھوں سے جہاد کرنے کے لئے پشاور کی طرف گئے ہوئے تھے یہ کسی کام کے لئے دلی آئے ہوئے تھے تا کہ اپنے اقرباء ، مشورہ کریں۔زیادہ تر ان کا کام یہ ہوتا تھا کہ شاہ اسحق صاحب جو شاہ ولی اللہ شاہ صاحب کے پوتے تھے اُن سے مشورہ کر کے سید صاحب تک ان کی رائے پہنچا دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ وہ دہلی سے واپس جارہے تھے جب کیمبل پور کے مقام پر پہنچے تو کسی نے ذکر کیا کہ اس دریا کو یہاں سے کوئی شخص تیر کر نہیں گزر سکتا۔اس زمانہ میں صرف فلاں سکھ ہے جو گزر سکتا ہے مسلمانوں میں سے کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں۔وہ جارہے تھے جہاد کے لئے ، جارہے تھے اپنے پیر کی مدد کے لئے۔وہیں ٹھہر گئے کہ اچھا ایک سکھ ایسا کام کرتا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔اب جب تک میں اس دریا کو پار نہیں کر لوں گا میں یہاں سے نہیں ہلوں گا چنانچہ وہاں تیرنے کی مشق شروع کی۔چار پانچ مہینوں میں اتنے مشاق ہوئے کہ تیر کر پار گزرے اور پار گزر کر بتادیا کہ سکھ ہی نہیں ہیں اچھے کام کرنے والے مسلمان بھی جب چاہیں اُن سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔تو یکھو یہ ایک تسابق کی روح تھی اور اسی تسابق کی روح کو جب بھی ہم اپنے سامنے لاتے ہیں تو ہماری روحوں میں ایک بالیدگی پیدا ہو جاتی ہے اور ہمارے دلوں میں گرمی پید اہو جاتی ہے اور ہمارے دماغوں میں عزم پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اب مخالف یا مد مقابل یار قیب ا