انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 212

انوار العلوم جلد 25 212 متفرق امور کو میں نے دیکھا ہے وہ غیر احمدیوں سے چندہ لیتے تھے اور دو دولاکھ روپیہ سال کا چندہ ہو جاتا تھا۔اُن کے ساتھی تو بہت کم تھے ہمارے ساتھی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے پاکستان اور ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔اگر ہر احمدی یہ عادت ڈال لے کہ اپنے دوست کو کہے کہ یہ اشاعت اسلام کا کام ہے اگر اسلام تمہارا بھی ہے اور تم کو اس سے محبت ہے تو تمہیں کون روکتا ہے تم بھی یہ عزت حاصل کرو اور اس ثواب میں شامل ہو جاؤ تو میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑی سی تحریک سے بھی چندہ آسکتا ہے۔اور پھر جو ایک دفعہ دے گا اس کو چاٹ پڑ جائے گی اور پھر وہ ہر سال دے گا۔پہلی دفعہ تو آپ کو پندرہ منٹ اُس سے بحث کرنی پڑے گی کہ دیکھو! یہ خدا اور رسول کا کام ہے ، دین کی اشاعت کا کام ہے اس میں حصہ لو۔لیکن اگلے سال وہ خود تمہاری تلاش کرے گا اور تمہیں آکے ڈھونڈے گا اور کہے گا کہ میر اچندہ لو۔پس اگر احمدی اپنی ذمہ داری سمجھیں تو پیچیں چھیں لاکھ یعنی پچاس لاکھ روپیہ سالانہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کا چندہ جمع ہو جانا خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید بات نہیں۔غرض زمیندار اپنا فرض سمجھیں اور محنت کر کے کام کریں تو ان کی آمد نیں موجودہ آمد سے سو گنے زیادہ ہو سکتی ہیں اور ان کا چندہ بھی سو گنے بڑھ سکتا ہے۔لیکن اگر یہی ہونا ہے کہ میں نے بیماری میں بات کی اور ا کوفت اٹھائی اور تم نے گھر میں جا کر آرام سے اپنا حقہ پکڑ لیا تو پھر یہ سب بیکار ہے۔میں نے کئی دفعہ پہلے بھی سنایا ہے کہ ایک دفعہ قادیان میں میں سیر کرنے نکلا تو مجھے ایک کھیت بڑا اچھا نظر آیا۔اُس کی فصل بڑی عمدہ تھی۔جو دوست میرے ساتھ تھے اُن سے میں نے کہا کہ یہ کسی سکھ کا ہے۔کہنے لگے آپ کو کس طرح پتہ ہے؟ میں نے کہا سکھ کا ہی ہے۔بلاؤ کسی ایسے آدمی کو جو اس کا واقف ہو۔انہوں نے بلایا۔میں نے پوچھا کس کی زمین ہے ؟ وہ کہنے لگا فلاں سکھ کی ہے۔وہ بہت حیران ہوئے کہ آپ کو کس طرح پتہ لگا؟ میں نے کہا مجھے فصل نظر آرہی تھی کہ یہ کسی سکھ کی ہی ہو سکتی ہے۔مسلمان تو تہجد کے وقت حقہ پکڑ کر آگ سلگانے بیٹھ جاتا ہے اس کی فصل کیا ہونی ہے سکھ ہے جس نے محقہ چھوڑا ہوا ہے۔اس کی برکت خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مل رہی