انوارالعلوم (جلد 25) — Page 110
انوار العلوم جلد 25 110 احباب جماعت کے نام پیغامات ایک قدم آگے بڑھنے کی کوشش کر میں اپنی تلوار سے تیر اسر کاٹ دوں گا۔صرف ایک صورت تیرے مدینہ میں داخل ہونے کی ہے۔اپنی سواری سے اتر آاور زمین پر کھڑے ہو کر کہہ کہ مدینہ کا سب سے معزز آدمی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے اور سب سے ذلیل وجود میں ہوں۔اگر تو یہ کہے گا تو میں تجھے مدینہ میں داخل ہونے دوں گا ور نہ تجھے قتل کر دوں گا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول اپنے بیٹے کے ایمان کو دیکھ کر ایسا مرعوب ہوا کہ فوراً اپنے اونٹ سے اتر آیا اور اُس نے وہی فقرے کہے جو اُس کے بیٹے نے کہے تھے۔تب اُس کے بیٹے نے اسے مدینہ میں داخل ہونے دیا۔سو دین کے معاملہ میں باپ، دادا، استاد اور پیر کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔جو کہتا ہے دین کی حقارت کرو تم اُس کا مقابلہ کرو۔اگر تمہارے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جائیں تو خوشی سے اس موت کو قبول کرو۔کیونکہ وہ موت تمہاری نہیں تمہارے دشمن کی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ آخری زمانہ میں دجال ایک مومن کو قتل کرے گا پھر اُس کو زندہ کرے گا۔پھر اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن خدا اس کو توفیق نہیں دے گا۔سو یا د رکھو کہ وہ موت جو تم خدا کے لئے قبول کرو گے وہ موت آخری نہیں ہو گی۔اس کے بعد خدا تمہیں پھر زندہ کرے گا اور تمہیں دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے دیگا۔پس اے نوجوانو! اے خدام الاحمدیہ کے ممبر و! میری اس نصیحت کو یاد رکھو، عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے کے واقعہ کو یا در کھو، حدیث دنبال کو یا در کھو۔اگر تم خدا کے لئے موت قبول کرو گے تو خُدا تم کو ایسی زندگی دے گا جس کو کوئی ختم نہیں کر سکے گا۔اللہ تعالیٰ تم کو سچامو من اور سچا بندہ بننے کی توفیق دے۔اللهم امين خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی "22/3/55 ( الفضل 23 مارچ 1955ء)