انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 57

انوار العلوم جلد 25 57 سیر روحانی (8) مخلص اور پار سا اور توبتہ النصوح ایک اور بات بھی یہاں قابل غور ہے اور وہ یہ کہ اس نظام کا ذکر سُن کر (جیسے تم کرنے والوں کو ایک خدشہ میں سے بھی جو ہو شیار آدمی ہو گئے اُن کے دل میں بھی خیال آیا ہو گا) مخلص اور پار سا اور توبۃ النصوح کرنے والوں کے دل بھی ڈر جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ آٹے کے ساتھ گھن بھی پیسنے لگا ہے۔مجرم تو خیر مجرم تھے ہی لیکن میں جو تو بہ کرنے والا ہوں یا میں جس نے ساری عمر کوشش کر کے نیکیاں کی ہیں میرے اعمال کا بھی تو کوئی نہ کوئی حصہ ایسا ہے جس کے متعلق میں نہیں چاہتا کہ لوگوں کے سامنے ظاہر ہو۔اگر یہی ذلت اور فضیحت ہونی ہے تو میں تو صاف مر گیا۔ابو جہل تو ڈوبے گا ساتھ اس کے کئی صحابہ کے اعمال جو نچھپانے والے ہونگے وہ بھی ظاہر ہو جائیں گے۔اس طرح دوسرے نیک لوگوں کے بھی ظاہر ہو جائیں گے۔ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی کا قریب ترین جو شاگر د تھا وہ پہلے ڈاکو اور چور ہو تا تھا۔اب وہ بزرگ صاحب پیش ہوئے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور اسلام کی خدمت کرنے والے ہیں اور ریکارڈ شروع ہوا کہ انہوں نے فلاں جگہ چوری کی، فلاں جگہ ڈا کہ مارا تو ذلت تو ہو گی۔اب ایسا شخص ملنا سوائے چند افراد کے ہت مشکل ہے کہ جس کی زندگی کا کوئی حصہ بھی ایسا نہ ہو جس کو ریکارڈ پر نہ لایا جاسکے۔اگر اس دفتر میں ایک ایک عمل اور ایک ایک خیال چار چار ریکارڈوں میں موجود ہے تو کافر تو ذلیل ہونگے ہی مؤمن کو بھی جنت ہزار رُسوائی کے بعد ہی ملے گی۔پھر اس کا مزہ کیا آئیگا؟ تائب کہے گا کہ تو بہ تو منظور ہو گئی۔اَلْحَمْدُ لِلهِ مگر کلنک کا ٹیکا تو ماتھے کو لگ ہی گیا۔ریکارڈر آپ ہی نہیں بجتا بلکہ مگر اس دفتر ریکارڈ میں جب ہم نے قاعدے دیکھے اور غور کیا کہ اچھا اس کے مالک جب بجاتا ہے تب بجتا ہے لئے کیا سامان موجود ہے ؟ تو معلوم ہوا کہ اُس نے اس خدشہ کا بھی علاج کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایسی کوئی بات پیش ہی نہ ہو کیونکہ ہم نے جب ریکارڈ دیکھا تو قانون یہ نکلا کہ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا قَالُوا