انوارالعلوم (جلد 25) — Page 57
انوار العلوم جلد 25 57 سیر روحانی (8) مخلص اور پارسا اور توبۃ النصوح ایک اور بات بھی یہاں قابل غور ہے اور وہ یہ کہ اس نظام کا ذکر سن کر (جیسے تم کرنے والوں کو ایک خدشہ میں سے بھی جو ہو شیار آدمی ہو نگے اُن کے دل میں بھی خیال آیا ہو گا) مخلص اور پارسا اور توبۃ النصوح کرنے والوں کے دل اور دل بھی ڈر جائیں گے اور وہ روہ کہیں گے کہ آٹے کے ساتھ گھن بھی پیسنے لگا ہے۔ مجرم تو خیر مجرم تھے ہی لیکن میں جو توبہ کرنے والا ہوں یا میں جس نے ساری عمر کوشش کر کے نیکیاں کی ہیں میرے اعمال کا بھی تو کوئی نہ کوئی حصہ ایسا ہے جس کے متعلق میں نہیں چاہتا کہ لوگوں کے سامنے ظاہر ہو۔ اگر یہی ذلت اور فضیحت ہونی ہے تو میں تو صاف مر گیا۔ ابو جہل تو ڈوبے گا ساتھ اس کے کئی صحابہؓ کے اعمال جو چھپانے والے ہونگے وہ بھی ظاہر ہو جائیں گے ۔ اس طرح دوسرے نیک لوگوں کے بھی ظاہر ہو جائیں گے ۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی کا قریب ترین جو شاگرد تھا وہ پہلے ڈاکو اور چور ہوتا تھا۔ اب وہ بزرگ صاحب پیش ہوئے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور اسلام کی خدمت کرنے والے ہیں اور ریکارڈ شروع ہوا کہ انہوں نے فلاں جگہ چوری کی، فلاں جگہ ڈاکہ مارا تو ذلت تو ہو گی۔ اب ایسا شخص ملنا سوائے چند افراد کے بہت مشکل ہے کہ جس کی زندگی کا کوئی حصہ بھی ایسا نہ ہو جس کو ریکارڈ پر نہ لایا جا سکے۔ اگر اس دفتر میں ایک ایک عمل اور ایک ایک خیال چار چار ریکارڈوں میں موجود ہے تو کافر تو ذلیل ہونگے ہی مؤمن کو بھی جنت ہزار رُسوائی کے بعد ہی ملے گی۔ پھر اس کا مزہ کیا آئیگا ؟ تائب کہے گا کہ تو بہ تو منظور ہو گئی ۔ اَلْحَمْدُ لِله مگر کلنک کا ٹیکا تو ماتھے کو لگ ہی گیا۔ ریکارڈر آپ ہی نہیں بچتا بلکہ مگر اس دفتر ریکارڈ میں جب ہم نے قاعدے دیکھے اور غور کیا کہ اچھا اس کے مالک جب بجاتا ہے تب بجتا ہے لئے کیا سامان موجود ہے؟ تو معلوم ہوا کہ اُس نے اس خدشہ کا بھی علاج کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایسی کوئی بات پیش ہی نہ ہو کیونکہ ہم نے جب ریکارڈ دیکھا تو قانون یہ نکلا کہ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا قَالُوا