انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 56

انوار العلوم جلد 25 56 سیر روحانی (8) اور اپنے ہاتھ پاؤں کا ریکارڈلائیں گے تا کہ وہ انکار نہ کر سکیں اور اس کے بعد ہم جو فیصلہ کرنے والے ہیں انہیں بتائیں گے کہ ہم بھی وہاں بیٹھے دیکھ رہے تھے اس لئے اس فیصلہ کو کوئی غلط نہیں کہہ سکتا۔حکومتیں روحانی نظام کی اب تک نقل بھی نہیں کر سکیں مگر اتنے بڑے زبر دست نظام کو دیکھ کر بھی حکومتیں اسکی نقل نہیں کر سکیں۔حکومتوں نے ڈائریاں بھی بنائی ہیں، اب ریکارڈر بھی نکال لئے ہیں مگر وہ ریکارڈر کروڑوں مقدموں میں سے کسی ایک میں استعمال ہوتا ہے ہر جگہ نہیں ہو سکتا۔غرض اتنے نظام کو دیکھنے کے بعد بھی دنیا ایسا نظام نہیں بنا سکی اور ابھی دنیا کہہ رہی ہے کہ قرآن کی ہم کو ضرورت نہیں ہے۔تیرہ سو سال سے یہ اعلیٰ درجہ کا نظام حکومت قرآن بیان کرتا ہے اور تیرہ سو سال سے اس کو تفصیل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، تیرہ سو سال سے مہذب دنیا کی حکومتیں اس کو دیکھتی ہیں اور اس کی نقل کرنیکی کوشش کرتی ہیں مگر تیرہ سو سال کے عرصہ میں اس کی مکمل نقل نہیں کر سکیں۔اگر وہ ڈائریاں لکھنی شروع کرتی ہیں تو ان کو بچے ڈائری نویں نہیں ملتے۔اگر ڈائری نویس کی تصدیق کا ثبوت ملتا ہے تو پہلے تو اُن کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا اب ریکارڈر نکالا تو وہ ریکارڈر کو ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے۔اور اگر ریکارڈر ہو بھی تو پھر بھی حج کو صحیح پتہ نہیں لگ سکتا اور کوئی ایسا مج اُن کو نہیں مل سکتا جس کو پتہ ہو کہ واقعہ کیا ہے۔وہ محض قیاسی باتیں کرتا ہے۔چنانچہ ہزاروں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ حج نے ایک فیصلہ کیا ہے اور بعد میں معلوم ہوا ہے کہ وہ فیصلہ غلط تھا۔ہم نے انگلستان کے بعض فیصلے پڑھے ہیں جن میں یہ ذکر آتا ہے کہ بعض حج پاگل ہو گئے کیونکہ پندرہ بیس سال کے بعد ان کو بعض ایسے واقعات معلوم ہوئے کہ جس شخص کو انہوں نے پھانسی دی تھی وہ بالکل مجرم نہیں تھا اور وہ اس صدمہ کے مارے کہ ہم نے اتنا ظلم کیا ہے پاگل ہو گئے۔لیکن قرآن کا حج دیکھو اُس کے پاس ڈائریوں کا کتنا بڑا نظام ہے اور پھر کس یقین کے ساتھ وہ کہتا ہے کہ نہیں اصل حقیقت یہ ہے۔