انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 41

انوار العلوم جلد 25 41 سیر روحانی (8) کی کہتے ہیں۔ طریق یہ ہے کہ اُس کو کمرے میں کچھپا کر کہیں رکھ دیا جاتا ہے اور پولیس کا کوئی نمائندہ یا پولیس کا افسر بھیس بدلے ہوئے اُس مُجرم سے باتیں شروع کر دیتا ہے اور وہ اس ریکارڈر میں سب لکھ لکھی جاتی ہیں۔ مثلاً اُس گفتگو میں وہ اُس کا ساتھی بن جاتا ہے اور کہتا ہے ارے میاں! تم چوری کرتے ہو تو مجھے بھی کچھ دو۔ میں بھی غریب آدمی ہوں، میرا بھی کوئی حصہ رکھو اور مجھے بھی کچھ دلاؤ۔ اس پر وہ فخر کرنا شروع کرتا ہے کہ ہاں ہاں میں نے فلاں جگہ چوری کی اور اس میں یہ مال لیا۔ فلاں جگہ چوری کی اور اس میں یہ مال لیا۔ آؤ تم ہماری پارٹی میں شامل ہو جاؤ بڑی دولت آتی ہے اور خوب آسانی سے مال کمائے جاتے ہیں۔ اب ہمارا ارادہ فلاں جگہ ڈاکہ مارنے کا ہے وہاں سے ہمیں اُمید ہے کہ دس لاکھ پونڈ ملے گا، تمہیں بھی دو چار سو پونڈ حصہ مل جائے گا۔ اب یہ ساری باتیں وہاں ریکارڈ ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جاکر رپورٹ کی اور وہ پکڑے گئے۔ جب عدالت میں پہنچے تو اُس نے حسب عادت یہ کہہ دیا کہ صاحب! یہ جھوٹ ہے۔ اس کے ساتھ میری دشمنی ہے۔ یہ مجھ سے دس پونڈ ر شوت مانگ رہا تھا میں نے نہیں دی اس لئے اس نے میرے خلاف یہ جھوٹی رپورٹ کر دی۔ مجسٹریٹ نے کہالاؤ ثبوت۔ اُس نے کہا یہ ریکار ڈر ہے۔ چنانچہ ریکار ڈر پیش کیا گیا، اس میں مجرم کی آواز بند ہے، اُس کا لہجہ پہچانا جاتا ہے، اُس کی آواز پہچانی جاتی ہے ، اُس میں یہ سارا ذکر آتا ہے کہ میں نے فلاں جگہ چوری کی، میں نے فلاں جگہ چوری کی ، اب فلاں جگہ چوری کرونگا۔ غرض جو اُس نے ڈائری لکھی تھی وہ ساری کی ساری اس میں ریکار ڈ ہوتی ہے۔ ریکارڈر کے استعمال میں کئی قسم کی دقتیں لیکن یہ ریکار ڈر بہت شاذ استعمال ہوتا ہے کیونکہ ایک تو اس کے لئے جگہ تلاش کرنی پڑتی ہے اور اسے دوسروں سے چھپانا پڑتا ہے۔ پھر اس جگہ پر جانے کے لئے ملزم کو راضی کرنا پڑتا ہے۔ جو چور واقف کار ہوتے ہیں وہ جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم تو ہوٹل کے کمرہ میں جا کر نہیں بیٹھتے جو بات کرنی ہے میدان میں کرو اور میدان میں ریکارڈر رکھا نہیں جا سکتا۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ جو سے