انوارالعلوم (جلد 25) — Page 35
انوار العلوم جلد 25 35 سیر روحانی (8) اور اُس کو آپ کی طرف سے ہدایت ہو گی کہ فلاں جہاز پر پہنچ جانا۔ وہ وہاں آئیگا اور آکر کہے گا کہ اس جہاز کا جو چیف انجینئر ہے وہ ہے ؟ لوگ بتائیں گے کہ ہے۔ اس کے بعد میں جاؤں گا اور پوچھوں گا کون صاحب ہیں ؟ وہ کہیں گے میں جماعت احمد یہ احمد یہ کا مبلغ ہوں اور انگلینڈ سے آیا ہوں۔ میں کہوں گا میں جماعت احمد یہ کو جانتا ہی نہیں نہ کسی مبلغ کو جانتا ہوں۔ تم میرے پاس کیوں آئے ہو ؟ وہ کہے گا مجھے امام جماعت احمد یہ نے بھیجا ہے میں کہوں گا میں امام جماعت احمدیہ کو جانتا ہی نہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی جیب میں سے کارڈ نکالے گا اور کہے گا کہ یہ کارڈ لیں۔ میں اپنی جیب سے کارڈ نکالوں گا اور دونوں کو ملاؤں گا۔ اگر وہ مل گئے تو میں کہوں گا ہاں ہاں یہ لفافہ تمہارے لئے ہے۔ اِس طرح آپ کی خط و کتابت بڑی آسانی سے ہو جائے گی۔ میں نے کہا میں آپ کی اس پیشکش کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کی اِس خیر خواہی کا ممنون ہوں۔ مگر افسوس ہے کہ میں یہ کام ہی نہیں کرتا تو اس سے کس طرح فائدہ اُٹھاؤں۔ کہنے لگا پھر سوچ لیجئے۔ جب آپ کو ضرورت ہو میں حاضر ہوں۔ پولیس والوں کی قیاسی رپورٹیں اس واقعہ سے مجھے خیال آیا کہ شاید وہی سوویٹ یونین کا نمائندہ ہو اور انہوں نے سمجھا ہو کہ شاید یہ جماعت بھی اس قسم کے کام کرتی ہے ہم اسے اپنے ساتھ ملالیں۔ بہر حال یہ ایک چٹھی تھی جو آئی۔ اس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ ڈائری نویس اپنی ڈائریاں کس طرح مرتب کیا کرتے ہیں۔ یہ لکھنے والے بد دیانت نہیں تھے، جھوٹے نہیں تھے ہمارے ساتھ ان کی کوئی دشمنی نہیں تھی۔ بھلا انگلستان کے لوگوں کو یا فرانس کے لوگوں کو ہمارے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے محض قیاس کیا اور ایک شخص جس کے متعلق وہ جانتے تھے کہ وہ سوویٹ یونین کا بڑا آدمی ہے لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا۔ وہ ہمیں ملنے آیا ہم نے سمجھا کہ ایک عام آدمی ہم سے مل رہا ہے اور انہوں نے فوراً نوٹ کیا کہ سوویٹ یونین کا کوئی نمائندہ ان سے ملا ہے اور اس کے اوپر انہوں نے قیاس کر لیا کہ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات قائم ہیں۔