انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 506

انوار العلوم جلد 25 506 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات مذاق سُوجھا تو اس نے پہاڑی پر چڑھ کر شور مچادیا کہ شیر آیا شیر آیا۔گاؤں کے لوگ لاٹھیاں لے کر اُس کی مدد کے لئے آئے لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں شیر وغیرہ کوئی نہیں تھا۔لڑکے نے انہیں بتایا کہ اُس نے ان سے یو نہی مذاق کیا تھا۔دوسرے دن وہ بھیڑیں چرا رہا تھا تو واقع میں شیر آگیا اور لڑکے نے پہاڑی پر چڑھ کر شور مچایا کہ شیر آیا، شیر آیا۔لیکن گاؤں سے اس کی مدد کے لئے کوئی نہ آیا۔انہوں نے سمجھا کہ لڑکا کل کی طرح آج بھی مذاق کر رہا ہو گا۔چنانچہ شیر نے اسے پھاڑ کر کھالیا۔اسی طرح جب غیر احمدیوں کو محسوس ہوا کہ یہ لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں تو وہ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور یہ لوگ اپنی آنکھوں سے اپنی ناکامی کا مشاہدہ کریں گے۔آج ہی مجھے میرے نائی نے ایک لطیفہ سنایا۔اس نے بتایا کہ میں میاں عبد المنان صاحب کی حجامت بنانے گیا تو انہوں نے کہا کیا تم ڈر گئے تھے کہ حجامت بنانے نہ آئے یا تمہیں کسی نے روکا تھا؟ میں نے کہا مجھے تو کوئی ڈر نہیں اور نہ کسی نے مجھے روکا ہے۔حجامت بنانا تو انسانی حق ہے۔اس سے مجھے کوئی نہیں روکتا۔اس لئے میں آگیا ہوں۔پھر میں نے کہا میاں صاحب! میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں کہ پشاور سے ایک احمدی قادیان میں آیا اور وہ میاں شریف احمد صاحب سے ملنے کے لئے ان کے مکان پر گیا۔اتفاقا میں بھی اُس وقت حجامت بنانے کے لئے ان کے دروازہ پر کھڑ ا تھا۔ہمیں معلوم ہوا کہ میاں صاحب اُس وقت سو رہے ہیں۔اِس پر میں نے کہا کہ میں تو حجامت بنانے کے لئے آیا ہوں انہیں اطلاع دے دی جائے لیکن وہ دوست مجھے بڑے اصرار سے کہنے لگے کہ ان کی نیند خراب نہ کریں۔لیکن میں نے نہ مانا اور میاں صاحب کو اطلاع بھجوا دی۔جس پر انہوں نے مجھے بھی اور اس دوست کو بھی اندر بلا لیا۔وہاں ایک چار پائی پڑی ہوئی تھی میں نے انہیں کہا کہ اس پر بیٹھ جائے۔کہنے لگے میں نہیں بیٹھتا۔میں نے سمجھا کہ ماید یہ چارپائی پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے اس لئے میں ان کے لئے کرسی اٹھا لایا لیکن وہ کرسی پر بھی نہ بیٹھے اور دروزہ کے سامنے جہاں جو تیاں رکھی جاتی ہیں وہاں پائیدان پر جا کر بیٹھ گئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ میں نے چار پائی دی لیکن آپ نہ بیٹھے