انوارالعلوم (جلد 25) — Page 29
انوار العلوم جلد 25 29 سیر روحانی (8) بیچارہ خبطی تو تھا ہی، روز جب عدالت میں کام کرتا تھا تو دیکھتا تھا کہ مجسٹریٹ بیٹھا ہوا ہے اور کہتا ہے اہلمد ! مسل پیش کرے اور پھر ایک مسل آجاتی۔اُس کو بھی شوق آتا مگر وہ حیثیت تو تھی نہیں، دل میں خواہش ہوتی کہ کاش! میں ڈپٹی کمشنر ہوتا اور میرے سامنے مسلیں پیش ہو تیں۔یا میں ای۔اے۔سی ہوتا تو میرے سامنے مسلیں پیش ہو تیں۔آخر انہوں نے گھر جا کر اپنی بیوی کو محکم دیا کہ آئندہ میں گھر کا خرچ نہیں دونگا جب تک ہر ایک چیز کی مسل نہ بناؤ اور پھر وہ مسل میرے سامنے پیش کیا کرو۔اب نمک خرچ ہو چکا ہے، بیوی کہتی ہے کہ نمک چاہئے۔اور وہ کہتے ہیں نہیں، پہلے مسل پیش کرو۔اس کے لئے رات کا وقت مقرر تھا۔چنانچہ نو بجے تک جب انہوں نے سمجھنا کہ ہمسائے سو گئے ہیں تو انہوں نے بیٹھ جانا اور بیوی کو کہنا کہ اچھا اہلمدہ ! نمک کی مسل پیش کرو۔اب اس نے نمک کی مسل پیش کرنی اور انہوں نے اس میں لکھنا کہ دو آنے کا نمک آیا تھا جو فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک چلا ہے۔اس کے بعد "حضور والا مدار ! اور منظوری دیں۔" اور پھر اُس نے لکھنا کہ نمک کے لئے دو آنے کی اور منظوری دی جاتی ہے۔غرض وہ سارے کا سارا اُس بیچارے کے گھر کا بہی کھاتہ تھا جو در حقیقت اُس کا ایک تمسخر تھا۔اب بات کیا ہوئی ؟ بات یہ ہوئی کہ پولیس آخر انسان ہے اُس کو غیب کا علم تو ہے نہیں وہ یہی کرتے ہیں کہ اِدھر اُدھر سے کنسوئیاں 4 لیتے ہیں کہ کسی طرح بات کا پتہ چلے۔وہ سارے شہر میں جو پھرے تو ہمسایوں نے کہا کہ اس کے گھر سے رات کو مسل مسل کی آواز آیا کرتی ہے۔چنانچہ انہوں نے اُس کو پکڑ لیا۔پہلے ایک ہمسایہ نے گواہی دی، پھر دوسرے نے دی، پھر تیسرے نے دی۔غرض کئی گواہ مل گئے جنہوں نے تصدیق کی کہ روزانہ آدھی رات ہوتی ہے یا دس گیارہ بجتے ہیں تو یہاں سے آواز آنی شروع ہوتی ہے کہ مسل مسل! پس مسلیں اسی کے گھر میں ہیں۔چنانچہ چھاپہ مارا گیا اور اندر سے نمک اور مرچ اور ہلدی کی مسلیں نکل آئیں تو اس طرح غلطیاں لگ سکتی ہیں۔بہر حال انہوں نے تدبیر اور شش سے بات دریافت کرنی ہوتی ہے ان کو غیب کا علم نہیں ہو تا۔لیکن قرآن کریم کے جو ڈائری نویس ہیں اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ وہ ارد گرد