انوارالعلوم (جلد 25) — Page 505
انوار العلوم جلد 25 505 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات ہے جو 1914ء میں پیدا ہوئی تھی۔آپ لوگ اُس وقت جوان تھے اور آب بُڑھے ہو چکے ہیں لیکن اِس وقت نوجوانوں والا عزم آپ کے اندر دوبارہ پید اہو گیا ہے۔اور پھر جوانوں کے اندر بھی عزم پیدا ہو چکا ہے اور جماعت کا ہر فرد اس بات کے لئے تیار ہے کہ وہ خلافت کے لئے اپنی جان دے دے گا لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔اور جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے دین کی تائید اور نصرت کے لئے عزم کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں۔میں نے پچھلے ماہ خواب میں دیکھا تھا کہ وہ آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں جو قرآن شریف میں یہودیوں اور منافقوں کے لئے آئی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ سے نکل جائیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑائی کریں گے۔لیکن قرآن کریم منافقوں سے فرماتا ہے کہ نہ تم یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ سے نکلو گے اور نہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑو گے۔یہ دونوں جھوٹے دعوے ہیں اور صرف یہودیوں کو انگیخت کرنے کے لئے اور فساد پر آمادہ کرنے کے لئے ہیں۔آب دیکھو ! وہی کچھ ہو رہا ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا تھا۔ایک طرف یہ منافق معافی مانگتے ہیں اور پھر اخبار میں شائع کرا دیتے ہیں کہ ہم نے تو معافی نہیں مانگی تھی۔اگر انہوں نے واقع میں کوئی معافی نہیں مانگی تھی تو غیر احمدی اخبارات نے یہ کیوں لکھا تھا کہ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا ہے ان لوگوں کی معافی مانگتے مانگتے ناکیں بھی رگڑی گئی ہیں لیکن انہیں معافی نہیں ملتی۔اگر وہ بعد میں معافی کا انکار نہ کرتے تو جماعت کے کئی کمزور لوگ کہتے کہ جب یہ معافی مانگتے ہیں تو انہیں معاف کر دیا جائے۔لیکن انہوں نے پہلے خود معافی مانگی پھر ڈر گئے اور سمجھا کہ کہیں غیر احمدی یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ اب ڈر گئے ہیں اور اس طرح ان کی مدد سے محروم نہ ہو جائیں اس لئے انہوں نے پھر لکھ دیا کہ ہم نے تو معافی نہیں مانگی۔مگر اس جھوٹ کے نتیجہ میں وہی مثال ان پر صادق آئے گی جو کسی لڑکے کے متعلق مشہور ہے کہ وہ بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔ایک دن اُسے گاؤں والوں سے