انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 28

انوار العلوم جلد 25 28 سیر روحانی (8) اپنی دیکھی ہوئی بات لکھتے ہیں کسی سے پوچھ کر نہیں لکھتے۔اس لئے نہ تو لالچ کی وجہ سے کوئی نوکر جھوٹ بول سکتا ہے، نہ بیوقوفی کی وجہ سے کوئی بچہ غلط خبر دے سکتا ہے، نہ دشمنی کی وجہ سے کوئی ہمسایہ فریب کر سکتا ہے اُن کی اپنی دیکھی ہوئی بات ہوتی ہے جو صحیح ہوتی ہے۔ایک عرائض نویس کا لطیفہ ہم نے دیکھا ہے دنیوی ڈائریوں میں بعض دفعہ لطیف میں ایسی ایسی غلطی ہو جاتی ہے کہ لطیفے بن جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے گورداسپور میں ایک صاحب عرائض نویس ہوا کرتے تھے۔میں بھی اُن سے ملا ہوں۔اُن کے اندر یہ عادت تھی کہ جب کوئی شخص اُن سے ملتا اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کر مصافحہ کرتا تو وہ اُس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور بجائے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنے کے ایڑی پر کھڑے ہو کر اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ کہنا شروع کر دیتے۔یوں آدمی نمازی اور دیندار تھے۔ان کے متعلق یہ لطیفہ مشہور ہوا کہ ایک دفعہ اتفاقا ڈ پٹی کمشنر کے دفتر سے کچھ مسلیں غائب ہو گئیں۔کوئی صاحب غرض ہو گا یا کوئی شرارتی ہو گا یا کسی نے افسر کو دُکھ پہنچانا ہو گا اب تحقیقات کے لئے پولیس کو مقرر کیا گیا کہ پتہ لو مسلیں کہاں گئیں؟ انہوں نے تحقیقات کر کے خبر دی کہ ہم نے پتہ لے لیا ہے اگر گور نمنٹ اجازت دے تو ہم اس پر کارروائی کریں۔چنانچہ ڈپٹی کمشنر نے یا جو بھی مجسٹریٹ مقرر تھا اُس نے اجازت دے دی اور وہی شخص جو مصافحہ کرتے ہوئے اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ کہا کرتا تھا پولیس نے اُس کے گھر پر چھاپا مارا اور بہت سے کاغذات اُٹھا کر لے گئی اور سمجھا کہ مسلیں پکڑی گئیں۔چنانچہ انہوں نے فوراوہ مسلیں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں پہنچادیں کیونکہ انہیں فوری کام کرنے کا حکم تھا اُن کو دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا کہ ان کاغذات میں ہے کیا، سید ھے ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچے۔اب جو اُس نے مسلیں اٹھا ئیں تو ایک کے اوپر لکھا ہو ا تھا "نمک مسل" ایک کے اوپر لکھا ہوا تھا " مرچ کی مسل" ایک پر لکھا ہوا تھا " ہلدی کی مسل"۔ایک پر لکھا ہوا تھا " آٹے کی مسل"۔ایک پر لکھا ہوا تھا "شکر کی مسل "۔اب سب حیران کہ شکر اور آٹے کی مسلوں سے کیا مطلب ہے ؟ آخر کھول کر دیکھا تو پتہ لگا کہ وہ