انوارالعلوم (جلد 25) — Page 483
انوار العلوم جلد 25 483 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی بجائے کسی اور جہت میں حملہ کرتے تو وہ کامیاب ہوتے۔لیکن وہ سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا رُخ کرتے تھے اور مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت تھی۔وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن آپ کی ذات پر حملہ آور ہو اس لئے وہ بے جگری سے حملہ کرتے اور کفار کا منہ توڑ دیتے۔ان کے اندر شیر کی سی طاقت پیدا ہو جاتی تھی اور وہ اپنی جان کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے۔یہ وہ سچی محبت تھی جو صحابہ کور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔آپ لوگ بھی ان جیسی محبت اپنے اندر پیدا کریں۔جب آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے تو ان جیسی محبت بھی پیدا کریں۔آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔اس لئے تمہیں بھی چاہیئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھیں اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہو گی خدام کی بھی ضرورت ہو گی اور اطفال کی بھی ضرورت ہو گی ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا، اکیلا نبی بھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دیئے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جماعت دی۔اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی قائم رہیں۔اور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی۔کیونکہ جب دنیا دیکھے گی کہ جماعت کے لاکھوں لاکھ آدمی خلافت کے لئے جان دینے پر تیار ہیں تو جیسا کہ میور کے قول کے مطابق جنگ احزاب کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے حملہ آور بھاگ جانے پر مجبور ہو جاتے تھے اُسی طرح دشمن اِدھر رخ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔وہ سمجھے گا کہ اس کے لئے لاکھوں اطفال، خدام اور انصار جانیں دینے کے لئے تیار ہیں اس لئے اگر اس نے حملہ کیا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔غرض دشمن کسی رنگ میں بھی آئے جماعت اس سے دھوکا نہیں کھائے گی۔کسی شاعر نے کہا ہے۔