انوارالعلوم (جلد 25) — Page 482
انوار العلوم جلد 25 482 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات اور قرآن کریم کہتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ 10 مومنوں سے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔گو یا خلافت خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اُس نے خود دینی ہے۔جو اسے لینا چاہتا ہے چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا ہو یا حضرت مسیح اول کا ، وہ یقینا سزا پائے گا۔پس یہ مت سمجھو کہ یہ فتنہ جماعت کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن پھر بھی تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اس کا مقابلہ کرو اور سلسلہ احمدیہ کو اس سے بچاؤ۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 1 وہ آپ کو لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سے زیادہ سچا اور کس کا وعدہ ہو سکتا ہے مگر کیا صحابہ نے کبھی آپ کی حفاظت کا خیال چھوڑا؟ بلکہ صحابہ نے ہر موقع پر آپ کی حفاظت کی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی تو آپ باہر نکلے اور دریافت کیا کہ یہ کیسی آواز ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم انصار ہیں چونکہ ارد گرد دشمن جمع ہیں اس لئے ہم ہتھیار لگا کر آپ کا پہرہ دینے آئے ہیں۔اسی طرح جنگ احزاب میں جب دشمن حملہ کرتا تھا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف جاتا تھا۔آپ کے ساتھ اُس وقت صرف سات سو صحابہ تھے کیونکہ پانچ سو صحابہ کو آپ نے عورتوں کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا تھا اور دشمن کی تعداد اُس وقت سولہ ہزار سے زیادہ تھی لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور دشمن ناکام و نامراد رہا۔میور جیسا دشمن اسلام لکھتا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح اور کفار کے شکست کھانے کی یہ وجہ تھی کہ کفار نے مسلمانوں کی اس محبت کا، جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھی غلط اندازہ لگایا تھا۔وہ خندق سے گزر کر سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا رخ کرتے تھے۔جس کی وجہ سے مسلمان مرد عورتیں اور بچے سب مل کر اُن پر حملہ کرتے اور ایسا دیوانہ وار مقابلہ کرتے کہ کفار کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیتے۔وہ کہتا ہے کہ اگر کفار یہ غلطی نہ کرتے