انوارالعلوم (جلد 25) — Page 468
انوار العلوم جلد 25 468 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات ہوئے ہیں اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔مگر تم میں سے بعض لوگ پیغامیوں کی مدد کے لالچ میں آگئے اور انہوں نے خلافت کو مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں۔اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں میں اس عظیم الشان باپ کی اولاد بھی شامل ہے جس کو ہم بڑی قدر اور عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات پر 42 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر میں ہر قربانی کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔تحریک جدید 1934ء سے شروع ہے اور اب 1956ء ہے۔گویا اس پر 22 سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔شاید حضرت خلیفہ المسیح الاول کی اولاد خود بھی اس میں حصہ نہ لیتی ہو لیکن میں ہر سال آپ کی طرف سے اس میں چندہ دیتا ہوں تا کہ آپ کی روح کو بھی اس کا ثواب پہنچے۔پھر جب میں حج پر گیا تو اُس وقت بھی میں نے آپ کی طرف سے قربانی کی تھی اور اب تک ہر عید کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا چلا آیا ہوں۔غرض ہمارے دل میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بڑی قدر اور عظمت ہے لیکن آپ کی اولا د نے جو نمونہ دکھا یا وہ تمہارے سامنے ہے۔اس کے مقابلہ میں تم حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو دیکھو کہ وہ آج تک آپ کی خلافت کو سنبھالے چلے آتے ہیں۔ہم تو اس مسیح کے صحابہ اور انصار ہیں جس کو مسیح ناصری پر فضیلت دی گئی ہے۔مگر ہم جو افضل باپ کے روحانی بیٹے ہیں ہم میں سے بعض لوگ چند روپوں کے لالچ میں آگئے۔شاید اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ مماثلت بھی پوری ہوئی تھی کہ جیسے آپ کے ایک حواری یہودا اسکر یوطی نے رومیوں سے تیس روپے لے کر آپ کو بیچ دیا تھا اُسی طرح اس مسیح کی جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہونے تھے جنہوں نے پیغامیوں سے مدد لے کر جماعت میں فتنہ کھڑا کرنا تھا۔لیکن ہمیں عیسائیوں کے صرف عیب ہی نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ ان کی خوبیاں بھی دیکھنی چاہئیں۔جہاں اُن میں ہمیں یہ عیب نظر آتا ہے کہ ان میں سے ایک نے تیس روپے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا وہاں ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ آج تک جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر دو ہزار سال کے قریب عرصہ گزر چکا ہے وہ آپ کی