انوارالعلوم (جلد 25) — Page 467
انوار العلوم جلد 25 467 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اس سردار نے جواب میں کہا یار سول اللہ ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرمارہے ہیں کہ آپؐ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپؐ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے مدینہ سے باہر نکل کر ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اس وقت آپ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ درست ہے۔ اس نے کہا یارسول الله ؟! جس وقت وہ معاہدہ ہو اتھا اُس وقت تک ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپؐ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے اس لئے یار سول اللہ ! اب اُس معاہدہ کا کوئی سوال ہی نہیں ہم موسی کے ساتھیوں کی طرح آپ کو یہ نہیں کہیں گے اذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ 7 کہ تُو اور اور تیر ارب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے تے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یار سول اللہ ! دشمن جو آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے آیا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روند تا ہوا نہ گزرے۔ پھر اس نے کہا یا رسول الله ؟! جنگ تو ایک معمولی بات ہے یہاں سے تھوڑے فاصلے پر سمندر ہے (بدر سے چند منزلوں کے فاصلہ پر سمندر تھا اور عرب تیر نا نہیں جانتے تھے اس لئے پانی سے بہت ڈرتے تھے) آپ ہمیں سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دینے کا حکم دیجئے۔ ہم بلا چون و چرا اس میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے ۔ 8 یہ وہ فدائیت اور اخلاص کا نمونہ تھا جس کی مثال کسی سابق نبی کے ماننے والوں میں نہیں ملتی۔ اس مشورہ کے بعد آپؐ نے دشمن سے لڑائی کرنے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کو نمایاں فتح عطا فرمائی۔ حضرت مسیح ناصری کے انصار کی وہ شان نہیں تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار کی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ اس وقت تک آپ کی خلافت کو قائم رکھے