انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 459

انوار العلوم جلد 25 459 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کر لو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی رہے گی۔ افتتاحی خطاب (فرمودہ 26 / اکتوبر 1956ء بر موقع دو سر اسالانہ اجتماع انصار اللہ بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ ! اس کے بعد فرمایا: آپ لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے یہ نام قرآنی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے اور احمدیت کی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے۔ قرآنی تاریخ میں ایک دفعہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں۔ : ۔ چنانچہ جب آپ نے فرما یا من رض انْصَارِی إِلَى اللهِ تو آپ کے حواریوں نے کہا نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے انصار ہیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور ایک گروہ انصار کا تھا۔ گویا یہ نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے۔ ایک جگہ پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق آیا ہے اور ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کے ایک حصہ کو انصار کہا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار اللہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے۔ ایک دفعہ