انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 452

انوار العلوم جلد 25 452 قرون اولیٰ کی مسلمان خو نے خیال کیا کہ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اور انہوں نے اپنی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت بُرا بھلا کہا۔قادیان کے قریب کے ایک گاؤں بھینی ہے وہاں کی ایک احمدی عورت ان کے جلسہ گاہ کے قریب کھڑی تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیں اور تمام احمدی مرد بیٹھے رہے تو اس نے مولوی صاحب کو پہنچابی میں گالی دے کر کہا۔”تیرے دادے داڑھی ہگیا توں حضرت صاحب نوں گالیاں دینا ایں“۔اس پر غیر احمدی جوش میں آگئے اور اس عورت کو مارنے کے لئے اُٹھے۔بعض احمدی اسے بچانے لگے تو دوسرے احمدیوں نے کہا۔ایسانہ کرو، حضرت صاحب نے احمدیوں کو فساد سے منع کیا ہوا ہے۔مجھے پتہ لگا تو میں اُن پر خفا ہوا اور میں نے کہا یہاں تو ایک عورت کی عزت کا سوال تھا۔اس سے تمہیں کس نے روکا تھا۔تمہیں شرم نہ آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی گئیں تو تم مردوں میں سے کسی کو بھی غیرت نہ آئی لیکن اس عورت کو غیرت آئی اور اس نے اس بات کی ذرہ بھی پروا نہ کی کہ غیر احمدی کتنی تعداد میں جمع ہیں اور وہ اسے ماریں گے۔اس نے اُسی وقت کھڑے ہو کر مولوی ثناء اللہ صاحب کو کہا ”تیرے دادے داڑھی ہگیا توں حضرت صاحب نوں گالیاں دینا ایں“۔تمہیں تو اس عورت کو بچانے کے لئے اپنی جانیں قربان کر دینی چاہیں تھیں۔اور اگر تم ایسا کرتے تو میں بہت خوش ہو تا۔اب دیکھو وہ بھی ایک عورت تھی جس نے اس موقع پر بہادری دکھائی۔اُس وقت ہزار بارہ سو آدمی بھی ڈرتے تھے کہ اگر انہیں کچھ کہا تو غیر احمدی انہیں ماریں گے۔لیکن وہ کھڑی ہو گئی اور اس نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو روک دیا۔اُس نے اس بات کی پروا نہ کی کہ سارے کا سارا مجمع اس پر ٹوٹ پڑے گا اور اس کی جان ضائع ہو جائے گی۔اپنی طاقتوں کو صحیح رنگ غرض اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ہر قسم کی قربانی کی توفیق دی ہوئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے میں استعمال کرو کہ تم اپنی طاقتوں کو سمجھو اور انہیں استعمال کرو۔اگر تم اپنی طاقتوں کو سمجھو اور انہیں استعمال کرنا