انوارالعلوم (جلد 25) — Page 418
انوار العلوم جلد 25 418 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات ملتان میں ہیں ؟ لاہور میں ہیں؟ پشاور میں ہیں؟ کراچی میں ہیں ؟ آخر وہ کہاں ہیں ؟ کہیں بھی دیکھ لیا جائے۔ان کے ساتھ جماعت کے دو فیصدی بھی نہیں نکلیں گے۔مولوی نورالحق صاحب انور مبلغ امریکہ کی الفضل میں چٹھی چھپی ہے کہ عبد المنان نے ان سے ذکر کیا کہ پشاور سے بہت سے پیغامی انہیں ملنے کے لئے آئے ہیں اور وہ ان کا بہت ادب اور احترام کرتے ہیں۔لیکن کچھ دن ہوئے امیر جماعت احمدیہ پشاور یہاں آئے۔میں نے انہیں کہا کہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کا جواب چھپا ہے آپ وہ کیوں نہیں خریدتے ؟ تو انہوں نے کہا پشاور میں دو سے زیادہ پیغامی نہیں ہیں۔لیکن ان کے مقابل پر وہاں ہماری دو مساجد بن چکی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت وہاں کثرت سے پھیل رہی ہے۔پیغامیوں کا وہاں یہ حال ہے کہ شروع شروع میں وہاں احمدیت کے لیڈر پیغامی ہی تھے۔لیکن اب بقول امیر صاحب جماعت احمدیہ پیشاور وہاں دو پیغامی ہیں۔پس میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد کس لالچ میں آگئی ہے۔کیا صرف ایک مضمون کا پیغام صلح میں چھپ جانا ان کے لئے لالچ کا موجب ہو گیا؟ اگر یہی ہوا ہے تو یہ کتنی ذلیل بات ہے۔اگر پاکستان کی حکومت یہ کہہ دیتی کہ ہم حضرت خلیفہ اول کی اولاد کو مشرقی پاکستان کا صوبہ دے دیتے ہیں یا وہ کہتے کہ انہیں مغربی پاکستان دے دیتے ہیں تب تو ہم سمجھ لیتے کہ انہوں نے اس لالچ کی وجہ سے جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنا منظور کر لیا ہے۔لیکن یہاں تو یہ لالچ بھی نہیں۔حضرت خلیفہ اول ایک مولوی کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ اس نے ایک شادی شدہ لڑکی کا نکاح کسی دوسرے مرد سے پڑھ دیا۔لوگ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے پاس آئے اور کہنے لگے فلاں مولوی جو آپ سے ملنے آیا کرتا ہے اس نے فلاں شادی شدہ لڑکی کا نکاح فلاں مرد سے پڑھ دیا ہے۔مجھے اس سے بڑی حیرت ہوئی اور میں نے کہا کہ اگر وہ مولوی صاحب مجھے ملنے آئے تو میں ان سے ضرور دریافت کروں گا کہ کیا بات ہے۔چنانچہ ؟ مولوی صاحب مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے ذکر کیا کہ آپ کے متعلق میں