انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 416

انوار العلوم جلد 25 416 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات کی خلافت 30 سال کے عرصہ میں ختم ہو گئی؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں نے خلافت کی قدر نہ کی اور اس کی خاطر قربانی کرنے سے انہوں نے دریغ کیا۔جب باغیوں نے حضرت عثمان پر حملہ کیا تو آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے لوگو! میں وہی کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کیا کرتے تھے میں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔لیکن تم فتنہ پرداز لوگوں کو اپنے گھروں میں آنے دیتے ہو اور ان سے باتیں کرتے ہو۔اس سے یہ لوگ دلیر ہو گئے ہیں۔لیکن تمہاری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خلافت کی برکات ختم ہو جائیں گی اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔اب دیکھ لو وہی ہوا جو حضرت عثمان نے فرمایا تھا۔حضرت عثمان کا شہید ہونا تھا کہ مسلمان بکھر گئے اور آج تک وہ جمع نہیں ہوئے۔ایک زمانہ وہ تھا کہ جب روم کے بادشاہ نے حضرت علی اور حضرت معاویہ میں اختلاف دیکھا تو اس نے چاہا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجے۔اُس وقت رومی سلطنت کی ایسی ہی طاقت تھی جیسی اس وقت امریکہ کی ہے۔اُس کی لشکر کشی کا ارادہ دیکھ کر ایک پادری نے جو بڑا ہو شیار تھا کہا بادشاہ سلامت! آپ میری بات سن لیں اور لشکر کشی کرنے سے اجتناب کریں۔یہ لوگ اگر چہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن آپ کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے۔پھر اس نے کہا آپ دو کتے منگوائیں اور انہیں ایک عرصہ تک بھوکا رکھیں پھر ان کے آگے گوشت ڈال دیں۔وہ آپس میں لڑنے لگ جائیں گے۔اگر آپ انہی کتوں پر شیر چھوڑ دیں تو وہ دونوں اپنے اختلافات کو بھول کر شیر پر جھپٹ پڑیں گے۔اس مثال سے اس نے یہ بتایا کہ تُو چاہتا ہے کہ اس وقت حضرت علی اور معاویہؓ کے اختلاف سے فائدہ اٹھالے لیکن میں یہ بتادیتا ہوں کہ جب بھی کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کا سوال پیدا ہو گا یہ دونوں اپنے باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے اور دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے۔اور ہوا بھی یہی۔جب حضرت معاویہ کو روم کے بادشاہ کے ارادہ کا علم ہوا تو آپ نے اسے پیغام بھیجا کہ تو چاہتا ہے کہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرے۔