انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 411

انوار العلوم جلد 25 411 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات چالیس آدمی بھی سید عابد علی شاہ صاحب کی بیعت کرنے والے نہ ملے۔اُس وقت کے احمدیوں کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ غریب سے غریب احمدی بھی کروڑوں روپیہ پر تھوکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پھیلے۔جب انہیں میر عابد علی صاحب کی بیعت کے لئے چالیس آدمی بھی نہ ملے تو وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافتِ حقہ کی وجہ سے کئی معجزات دکھائے ہیں۔تم دیکھ لو 1934ء میں مجلس احرار نے جماعت پر کس طرح حملہ کیا تھا لیکن وہ اس حملہ میں کس طرح ناکام ہوئے۔انہوں نے منہ کی کھائی۔پھر 1947ء میں قادیان میں کیسا خطرناک وقت آیا لیکن ہم نہ صرف احمدیوں کو بحفاظت نکال لائے بلکہ انہیں لاریوں میں سوار کر کے پاکستان لے آئے۔دوسرے لوگ جو پیدل آئے تھے اُن میں سے اکثر مارے گئے لیکن قادیان کے رہنے والوں کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔اب بھی کچھ دن ہوئے مجھے ایک آدمی ملا۔اُس نے مجھے بتایا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی شخص قادیان سے نہ نکلے۔چنانچہ ہم نے تو آپ کے حکم کی تعمیل کی اور وہاں ٹھہرے رہے لیکن میرے ایک رشتہ دار گھبر اکر ایک قافلہ کے ساتھ پیدل آگئے اور راستہ میں ہی مارے گئے۔ہم جو وہاں بیٹھے رہے لاریوں میں سوار ہو کر حفاظت سے پاکستان آگئے۔اُس وقت اکثر ایسا ہوا کہ پیدل قافلے پاکستان کی طرف آئے اور جب وہ بارڈر کر اس کرنے لگے تو سکھوں نے اُنہیں آلیا اور وہ مارے گئے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ پیدل قافلہ قادیان سے نکلتے ہی سکھوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اگر وہاں سے محفوظ نکل آیا تو بٹالہ آکر یا فتح گڑھ چوڑیاں کے پاس مارا گیا۔لیکن وہ میری ہدایت کے مطابق قادیان میں بیٹھے رہے اور میری اجازت کا انتظار کرتے رہے۔وہ سلامتی کے ساتھ لاریوں میں سوار ہو کر لاہور آئے۔غرض ہر میدان میں خدا تعالیٰ نے جماعت کو خلافت کی برکات سے نوازا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت انہیں یاد رکھے۔مگر بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ انہیں یاد نہیں رکھتے۔