انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 407

انوار العلوم جلد 25 407 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات پوری ہو گی کہ : وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا " 5 اس پر میں نے کہا کہ میں یہ روپیہ تو لے لیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ میں یہ روپیہ سلسلہ کے کاموں پر ہی صرف کروں گا۔چنانچہ میں نے وہ رو پیپر تو لے لیا لیکن میں نے اسے اپنی ذات پر نہیں بلکہ سلسلہ کے کاموں پر خرچ کیا اور صد را مجمن احمدیہ کو دے دیا۔اب میں نے ہیمبرگ کی مسجد کے لئے تحریک کی ہے کہ جماعت کے دوست اس کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ دیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے تو ہمارے سلسلہ میں تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ایک ایک آدمی ایک ایک مسجد بنادے۔خود مجھے خیال آتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے کشائش عطا فرمائے تو میں بھی اپنی طرف سے ایک مسجد بنادوں اور کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ مجھے اپنی زندگی میں ہی اس بات کی توفیق دے دے اور میں کسی نہ کسی یورپین ملک میں اپنی طرف سے ایک مسجد بنادوں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دینے پر منحصر ہے۔انسان کی اپنی کوشش سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ہم لوگ زمیندار ہیں اور ہمارے ملک میں زمیندارہ کی بہت ناقدری ہے یعنی یہاں لائلپور اور سر گودھا کے اضلاع کی زمینوں میں بڑی سے بڑی آمدن ایک سو روپیہ فی ایکڑ ہے حالانکہ یورپین ممالک میں فی ایکٹر آمد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔میں جب یورپ گیا تو میں وہاں زمینوں کی آمد نیں پو چھنی شروع کیں مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں فی ایکٹر آمد چار سو روپیہ ہے اور ہالینڈ میں ایکٹر آمد تین ہزار روپیہ ہے۔پھر میں نے میاں محمد ممتاز صاحب دولتانہ کا بیان پڑھا۔وہ جاپان گئے تھے اور وہاں انہوں نے زمین کی آمدنوں کا جائزہ لیا تھا۔انہوں نے بیان کیا تھا کہ جاپان میں فی ایکڑ آمد چھ ہزار روپے ہے۔اس کے یہ معنے ہوئے کہ اگر میری ایک سو ایکٹر زمین بھی ہو۔حالانکہ وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور اس سے ہالینڈ والی آمد ہو تو تین لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو جاتی ہے اور اگر جاپان والی آمد ہو تو بڑی آسانی کے ساتھ ایک نہیں کئی مساجد میں اکیلا تعمیر کر اسکتا ہوں۔میرا یہ طریق ہے کہ میں اپنی ذات پر زیادہ روپیہ خرچ نہیں کرتا اور نہ اپنے