انوارالعلوم (جلد 25) — Page 406
انوار العلوم جلد 25 406 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات ایک ارب روپیہ مانگنا چاہئے تھا۔مانگنے والا خدا تعالیٰ کا خلیفہ ہو اور جس سے مانگا جائے وہ خود خدا کی ذات ہو تو پھر ایک لاکھ روپیہ مانگنے کے کیا معنے ہیں۔مجھے تو یہ دعا کرنی چاہئے تھی کہ اے خدا ! تو مجھے ایک ارب روپیہ دے، ایک کھرب روپیہ دے یا ایک پدم روپیہ دے۔میں نے بتایا ہے کہ اگرچہ میں نے خدا تعالیٰ سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ صرف میں نے پچھلے سالوں میں چھ لاکھ ستر ہزار روپیہ سلسلہ کو چندہ کے طور پر دیا ہے۔بے شک وہ روپیہ سارا نقدی کی صورت میں نہ تھا کچھ زمین تھی جو میں نے سلسلہ کو دی مگر وہ زمین بھی خدا تعالیٰ نے ہی دی تھی۔میرے پاس تو زمین نہیں تھی ہم تو اپنی ساری زمین قادیان چھوڑ آئے تھے۔اپنے باغات اور مکانات بھی قادیان چھوڑ آئے تھے۔قادیان میں میری جائیداد کافی تھی مگر اس کے باوجو د میں نے سلسلہ کو اتنا روپیہ نہیں دیا تھا جتنا قادیان سے نکلنے کے بعد دیا۔1947ء میں ہم قادیان سے آئے ہیں اور تحریک جدید 1934ء میں شروع ہوئی تھی۔گویا اُس وقت تحریک جدید کو جاری ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس بارہ سال کے عرصہ میں میر ا تحریک جدید کا چندہ قریباً چھ ہزار روپیہ تھا لیکن بعد کے دس سال ملا کر چندہ تحریک جدید دو لاکھ بیس ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی زمین میں نے تحریک جدید کو دی ہے۔یہ زمین مجھے چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے بطور نذرانہ دی تھی۔میں نے خیال کیا کہ اتنا بڑا نذرانہ اپنے پاس رکھنا درست نہیں چنانچہ میں نے وہ ساری زمین سلسلہ کو دے دی۔اس طرح تین لاکھ ستر ہزار روپیہ میں نے صرف تحریک جدید کو ادا کیا۔اسی طرح خلافت جوبلی کے موقع پر چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی تحریک پر جب جماعت نے مجھے روپیہ پیش کیا تو میر محمد اسحاق صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے متعلق جو دعائیں کی ہیں ان میں یہ دعا بھی ہے کہ : دے اس کو عمر و دولت کر دُور ہر اندھیرا پس اس روپیہ کے ذریعہ آپ کی یہ دعا پوری ہو گی۔اس طرح یہ پیشگوئی بھی