انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 388

انوار العلوم جلد 25 388 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات رکھتا اور وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔پس یاد رکھو کہ ایمان شیشہ سے بھی زیادہ نازک چیز ہے اور اس کی حفاظت کے لئے غیرت کی ضرورت ہے۔جس شخص کے اندر ایمانی غیرت نہیں وہ منہ سے بے شک کہتا رہے کہ میں وفادار ہوں لیکن اس کے اس عہد وفاداری کی کوئی قیمت نہیں۔مثلاً اس وقت تمہارے اندر ایک شخص بیٹھا ہوا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں اس کی منافقت کا پتہ نہیں۔وہ ہمیشہ مجھے لکھا کرتا ہے کہ آپ مجھ سے کیوں خفا ہیں۔میں نے تو کوئی قابل اعتراض فعل نہیں کیا۔حالانکہ ہم نے اس کا ایک خط پکڑا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ خلیفہ جماعت کا لاکھوں روپیہ کھا گیا ہے اور لاکھوں روپیہ اس نے اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو کھلایا ہے۔۔۔۔اس نے سمجھا کہ میرے خط کو کون پہچانے گا۔اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ آجکل ایسی ایجادیں نکل آئی ہیں کہ بغیر نام کے خطوط بھی پہچانے جاسکتے ہیں۔چنانچہ ایک ماہر جو یورپ سے تحریر پہچاننے کی بڑی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے ہم نے وہ خط اسے بھیج دیا اور چونکہ ہمیں شبہ تھا کہ اس تحریر کا لکھنے والا وہی شخص ہے اس لئے ایک تحریر اسے بغیر بتائے اس سے لکھوالی اور وہ بھی اس خط کے ساتھ بھیج دی۔اس نے علوم جدیدہ کے مطابق خط پہچانے کی پینتیس جگہیں بتائی ہیں جو ماہرین نے بڑا غور کرنے کے بعد نکالی ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ لکھنے والا خواہ کتنی کوشش کرے کہ اس کا خط بدل جائے یہ پینتیس جگہیں نہیں بدلتیں۔چنانچہ اس نے دونوں تحریروں کو ملا کر دیکھا اور کہا کہ لکھنے والے کی تحریر میں پینتیس کی پینتیس دلیلیں موجود ہیں اس لئے یہ دونوں تحریریں سو فیصدی ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہیں اور وہ شخص بار بار مجھے لکھتا ہے کہ آپ خواہ مخواہ مجھ سے ناراض ہیں۔میں نے کیا قصور کیا ہے ؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔اس بے وقوف کو کیا پتہ ہے کہ اس کی دونوں تحریریں ہم نے ایک ماہر فن کو دکھائی ہیں اور ماہر فن نے بڑے غور کے بعد جن پینتیس جگہوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدلتیں وہ اس کی تحریر میں نہیں بدلیں وہ شخص غالباً اب بھی یہاں بیٹھا ہو گا اور غالباً کل یا پرسوں مجھے پھر لکھے گا کہ میں تو بڑا وفادار ہوں آپ خواہ مخواہ مجھ پر بد ظنی