انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page iv

حضرت مصلح موعود نے اپنی ذہانت، فطانت ، علوم ظاہری و باطنی اور خداداد استعدادوں سے نہ صرف جماعت کو مستفیض فرمایا بلکہ آپ اسیروں کے رستگار تھے، قوموں نے آپ کے وجود سے برکت پائی اور کلام اللہ کا مرتبہ آپ کے وجود سے ظاہر ہوا۔آپ کی خدمت قرآن کا اعتراف غیر بھی کئے بغیر نہ رہ سکے۔مشتمل انوار العلوم جلد 25 حضرت مصلح موعود کی 13 کتب، تحریرات و تقاریر پر م ہے جو کہ 28 دسمبر 1954ء سے اکتوبر 1956ء تک کے عرصہ کی ہیں۔اس عرصہ میں ہت سے تاریخی واقعات رونما ہوئے۔جن میں خاص طور پر حضرت مصلح موعود کا بغرض علاج سفر یورپ اختیار کرنا، بیماری کے دوران احباب جماعت سے محبت کا والہانہ انداز اور اُن کی راہنمائی ، منافقین کی طرف سے فتنہ خلافت اور اُس کا سد باب ، انصار الله ، لجنہ اماءاللہ اور خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اجتماعات سے خطابات اور جلسہ ہائے سالانہ کے موقع پر شرکت کر کے معرکۃ الآراء خطابات سے احباب جماعت کو فیضیاب فرمانا بھی شامل ہے۔سیر روحانی“ کے نام سے حضرت مصلح موعود نے رُوح پر ور خطابات فرمائے۔جس کا سبب 1938ء میں آپ کا تاریخی مقامات کی سیر کرنے کے بعد روحانی مقامات اور مدارج کی طرف توجہ مبذول ہونا تھا۔چنانچہ 1938ء کے جلسہ سالانہ سے آپ نے سیر روحانی کے نام سے سلسلہ تقاریر شروع فرمایا جس کی سات تقاریر گزشتہ جلدوں کی زینت بن چکی ہیں۔اس سلسلہ کے دو معرکۃ الآراء خطابات آپ نے جلسہ سالانہ 1954ء اور 1955ء کے مواقع پر فرمائے۔یہ دونوں خطابات جلد ہذا کی زینت ہیں۔فروری 1955ء میں حضرت مصلح موعود پر بیماری کا شدید حملہ ہوا۔ڈاکٹروں نے آپ کو یورپ سے علاج کا مشورہ دیا جسے حضور نے قبول فرمایا اور آپ بغرض علاج یورپ تشریف لے گئے۔سفر یورپ پر روانگی سے قبل اور دورانِ سفر مختلف مقامات سے احباب جماعت کو اپنے سفر ، علاج اور دیگر مصروفیات سے آگاہ رکھتے ہوئے متعدد پیغامات سے نوازا جن میں آپ کا احباب جماعت سے محبت کا غیر معمولی اظہار ہوتا ہے۔