انوارالعلوم (جلد 25) — Page 371
انوار العلوم جلد 25 371 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات وکیل کے عہدہ پر فائز ہونے، بوجہ حضرت خلیۃ المسیح الاوّل کا فرزند ہونے اور بوجہ اس کے کہ اپنے بھائیوں میں صرف اکیلے وہی علمی مذاق رکھتے ہیں اور علم کا اکتساب کر سکتے ہیں یہی اندازہ اور یہی حُسنِ ظن تھا جو خاکسار نے لکھا ہے۔ اُن امور کا جو ان کے چھوٹے بھائی کے متعلق بعد میں ظاہر ہوئے ہیں یا جن کا ذکر محترمہ عائشہ صاحبہ کے خط میں ہے خاکسار کو نہ علم تھانہ اندازہ۔ ممکن ہے مکر می مولوی عبد المنان عمر صاحب بھی ان امور میں ملوث ہوں۔ خاکسار کو اس کا بھی کوئی علم اس سے زائد نہیں جو ارشاد حضور نے کوہ مری سے ارسال کردہ اپنے والا نامے میں فرمایا تھا بوجہ مرکز سے باہر ہونے کے موجودہ فتنہ کے متعلق خاکسار کا علم انہی امور تک محدود ہے جو الفضل میں شائع ہوئے ہیں۔ ان امور کی تفتیش حضور کے ہاتھ میں اور حضور کے ارشاد کے ماتحت اور حضور کی ہدایات کے مطابق حضور کے خدام کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے حضور کی ذات مبارک اور سلسلہ عالیہ کو ہر قسم کے خطرہ، پریشانی اور ابتلاء سے محفوظ رکھے۔ امین۔ جو امر حضور کے نزدیک پایہ ثبوت کو پہنچ جائے اُس کے مطابق حضور کے خدام کا عمل پیرا ہونا بھی عین سعادت اور تقاضائے عہدِ اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ لیکن جب تک کسی امر کا انکشاف نہیں ہوا تھا اور کوئی ایسی بات ظہور میں نہ آئی تھی اُس وقت تک جن خدام کا عمل حُسنِ ظن کے مطابق رہا وہ آلاعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کے حکم کے تابع تھا۔ والا صدق و اخلاص اور اطاعت و وفا کا عہد وہیں ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور اسی کی عطا کردہ توفیق سے انشاء اللہ پورا ہوتا جائے گا۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے حضور کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے اور اپنے مبارک ارادوں کی تکمیل کی توفیق عطا فرماتا جائے۔ اور ہم سب خدام کو اُن برکات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کی توفیق عطا فرمائے جن کے نزول کا حضور کا وجود باجود ذریعہ ہے اور جو حضور کی ذات مبارک کے ساتھ وابستہ ہیں اور حضور کو ہر پریشانی اور حزن سے محفوظ رکھے۔ امین۔