انوارالعلوم (جلد 25) — Page 366
انوار العلوم جلد 25 366 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات وو (24) ہفت روزہ ” چٹان“ کا ایک ادارتی نوٹ ” اتفاقاً ایک پرچہ چٹان کا دفتر نے بھجوایا ہے۔ممکن ہے انہوں نے خریدا ہویا کسی دوست نے بھجوایا ہو۔اس کے صفحہ 5 پر ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے "الفضل کی خدمت میں اس میں لکھا ہے کہ بعض قادیانی حضرات نے گمنام خطوط لکھنے شروع کئے ہیں جن میں دشنام دہی کا ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو خلیفتہ المسیح اپنے لئے سننے کو تیار نہ ہوں گے۔گمنام خط خواہ قادیانی بھیجے یا حنفی یا وہابی یا مودودی یا شیعه یا نیچری یا اہل قرآن بر ا ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب تمہیں کوئی خبر آئے تو خبر لانے والے شخص کے حالات کو دریافت کر لیا کر و 24 اور گمنام خط لکھنے والے کے حالات دریافت نہیں کئے جاسکتے۔پس ایسا شخص چاہتا ہے کہ مکتوب الیہ قرآن کریم کے حکم کی نافرمانی کرے اور گویا اباحت پھیلاتا ہے۔پس مجھے چٹان“ کے ایڈیٹر صاحب سے اس بات میں پوری ہمدردی ہے کہ ان کے نام بعض لوگ بغیر اپنا نام ظاہر کرنے کے ایسے خط بھیجتے ہیں جن میں گالیاں ہوتی ہیں۔حقیقتا تو اگر اُن خطوں میں ایڈیٹر صاحب چٹان کی تعریف بھی ہو تو بوجہ ان خطوں کے گمنام ہونے کے اُن کے لکھنے والا خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم ہے اور اسے اپنے گناہ سے تو بہ کرنی چاہیئے ورنہ وہ خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا۔مگر مجھے ایک بات پر تعجب ضرور ہے کہ باوجود ان خطوں کے گمنام ہونے کے ایڈیٹر صاحب چٹان کو یہ کیونکر معلوم ہو گیا کہ و قادیانیوں کے لکھے ہوئے ہیں۔ممکن ہے کہ بعض ”قادیانیت“ کے دشمن لوگوں نے ایڈیٹر صاحب چٹان کو غصہ دلانے کے لئے ایسے گمنام خط لکھے ہوں۔جب یہ بات ممکن ہے اور جب وہ خط گمنام بھی ہیں تو تقویٰ کا طریق یہی تھا کہ ایڈیٹر صاحب چٹان اُن خطوں کو تو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے خدا! مسلمانوں پر رحم کر خواہ وہ کسی فرقہ کے ہوں کہ وہ ایسی گندی باتوں سے بچا کریں۔ایک بات ایڈیٹر صاحب چٹان نے ایسی لکھی ہے کہ مجھے اس کی تائید کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ الفضل نے معاصر نوائے وقت کے ساتھ ہم پر بھی یہ الزام چسپاں کیا ہے کہ ہم کسی کے روپے سے احمدی منافقین کی مدد کر رہے ہیں۔یہ لکھ کر وہ لکھتے ہیں