انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 354

انوار العلوم جلد 25 354 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات خوش نصیبی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل ور حم اور ذرہ نوازی سے یہ حقیقت ایک بچے کے دل میں راسخ کر دی کہ یہ چہرہ راستباز پہلوان کا چہرہ ہے۔پھر جذبات کے ساتھ دلائل ، براہین ، بینات کا سلسلہ شامل ہو گیا اور جاری ہے۔حضور کا وجو د یوم پیدائش بلکہ اُس سے بھی قبل سے اِس سلسلہ کا ایک اہم جزو ہے۔خاکسار کو یاد ہے کہ 1914ء میں لندن میں جس دن وہ ڈاک ملی جس میں اختلاف کے متعلق مواد آیا تھا تو وہی دن ڈاک کے واپس جانے کا تھا۔پس اتنا معلوم ہونے پر کہ اختلاف کیا ہے خاکسار نے بیعت کا خط لکھ کر ڈاک میں ڈال دیا اور باقی حصہ ڈاک بعد میں پڑھا جاتا رہا۔اُس دن سے آج تک پھر محض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم اور ذرہ نوازی سے باوجود اپنی کو تاہیوں، کمزوریوں اور غفلتوں کے وہ عہد جو اُس دن باندھا تھا مضبوط سے مضبوط تر ہو تا گیا آیات اور بینات، انعامات اور نوازشات نے اس تعلق کو وہ رنگ دے دیا ہے کہ خود دل جو اس کی لذات سے تو متواتر بہرہ ور ہوتا ہے اس کی حقیقت کی تہہ کو نہیں پہنچ پاتا چہ جائیکہ قلم اُسے احاطہ تحریر میں لا سکے۔اب جو عہد حضور نے طلب فرمایا ہے دل و جان اُس کے مصدق ہیں۔جو کچھ پہلے حوالہ کر چکے ہیں وہ اب بھی حوالہ ہے۔ظاہری فاصلہ ہونے کی وجہ سے خاکسار یہ التجا کرنے پر مجبور ہے کہ ایسے اعلان کے ساتھ حضور یہ اعلان بھی فرما دیا کریں کہ ہم اپنے فلاں دور اُفتادہ غلام کی طرف سے اس پر لبیک کا اعلان کرتے ہیں تا یہ خاکسار کسی موقع پر ثواب میں پیچھے نہ رہ جائے۔حضور کو اِس درجہ حُسنِ ظن رہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی کمال ستاری اور ذرہ نوازی سے خاتمہ بالخیر کی ہوس کو جو ہر مومن کی آخری ہوس ہوتی ہے پورا کرتے ہوئے فَادْخُلی فی عبدی کی بشارت کے ساتھ اپنے ہاں طلب فرمائے گا۔يَا أَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي طالب دعا خاکسار حضور کا غلام دستخط ظفر اللہ خاں“ (الفضل 26 اگست 1956ء)