انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 340

انوار العلوم جلد 25 340 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات مولوی عبد المنان صاحب نے اُن کو کہا کہ خلافت کا ڈنڈا میرے ہاتھ میں آنے دو پھر میں اس خاندان کو سیدھا کر دوں گا۔پھر میں خود حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ آپ کی دادی نے مجھ سے کہا تھا کہ پیغامی وفد میرے پاس آیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر عبد الحی کو خلیفہ بنا دیا جاتا تو ہم مان لیتے یہ محمود کہاں سے آیا ہے۔میں نے اُن سے کہا کہ اگر آپ کو کوئی عزت ملتی ہے تو شوق سے لے لیں میں نے آپ کو یہاں قید کر کے تو نہیں رکھا ہوا۔آپ کے نانا نے مجھے چٹھی لکھی اور آپ کی والدہ کی بنگالی چٹھی اس میں ڈال کر مجھے بھیجی جس کا خلاصہ انہوں نے یہ لکھا کہ آپ نے تو اپنی طرف سے میرے ساتھ نیکی کی تھی مگر آپ نے میرا بیڑا غرق کر دیا ہے۔اس گھر میں ہر وقت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برائیاں اور خلافت سے بغاوت کی باتیں ہوتی ہیں۔خاندان بہادر ابو الہاشم خان نے لکھا کہ میں نے تو دین میں ترقی کے لئے یہ رشتہ کیا تھا مگر افسوس کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا۔میری اور دوسرے دوستوں کی گواہیاں POSITIVE ہیں اور آپ کی گواہی NEGATIVE۔اب بتائیے کہ میں آپ کی دادی کی گواہی کو مانوں، آپ کے نانا کی گواہی کو مانوں جو POSITIVE تھیں یا NEGATIVE گواہی مانوں؟ آپ تعلیم یافتہ ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ POSITIVE کے مقابلہ میں NEGATIVE مانی نہیں جاتی۔کل ہی ایک پروفیسر کی گواہی ملی ہے کہ چند لوگوں کی مجلس میں مجھے جانے کا موقع ملا۔وہ یہ باتیں کرتے تھے کہ مسیح موعود کا تو ذکر الفضل میں بار بار ہوتا ہے خلیفہ اول کا نہیں ہو تا اور خلیفہ ثانی کا فوٹو چھپا اور خلیفہ اول کا فوٹو نہیں چھپا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے مامور تھے اور حضرت خلیفہ اول ان کے ادنیٰ خادم تھے دونوں میں مقابلہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔سارے یورپ اور امریکہ میں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی یا ان کی تعلیم کا ذکر ہوتا ہے نہ کسی جگہ پر خلیفہ اول کے دعویٰ کا ذکر ہوتا ہے نہ ان کی تعلیم کا۔پس الفضل جو کچھ کر رہا ہے وہی کر رہا ہے جس کا خد اتعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے اور مخالف دنیا بھی جس طرف متوجہ ہے۔باقی رہی میری تصویر تو اس کی دلیل موجود تھی۔میں خطر ناک بیماری کے بعد یورپ سے واپس آیا تھا۔اگر حضرت خلیفہ اول بھی