انوارالعلوم (جلد 25) — Page 337
انوار العلوم جلد 25 337 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات حجت تمام ہو۔ان کو غالباً تاریخ خلفاء کی روشنی میں یا کشفی طور پر معلوم ہو گیا ہو گا کہ کسی زمانہ میں ان کا کوئی بیٹا (یا پوتا) مصلح موعود کی خلافت کو ختم کرنے کا متمنی ہو گا۔پس تبصرہ کی حکمت تدبر کرنے والوں پر واضح ہے۔(5)۔عاجز کو معلوم ہے کہ اگر یہ خط شائع ہوا تو دشمنِ احمدیت اور ان کے دوست ضرور ہمارے مخالف ہو جائیں گے مگر مجھے اس کی پروا نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ وہ مجھے اور میری اولاد کو مارنے کی کوشش کریں گے مگر یہ تو ہماری بہت سعادت ہو گی یعنی شہادت جس کی تمنا ہر مسلمان کو ہونی چاہئے۔(6)۔آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا اور میری اولاد کا خاتمہ ایمان بالخلافت اور اہل بیعت کی محبت، خدمت اور حفاظت پر کرے جو دعا عاجز پندرہ سال سے کر رہا ہے آمین۔والسلام خاکسار خادم ڈاکٹر شاہ نواز خاں جناح کالونی لائلپور خط پر تبصرہ ย 66 ' 25-7-1956 یہ بالکل درست ہے کہ حضرت عثمان پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں میں حضرت ابو بکر خلیفہ اول کا بیٹا بھی شامل تھا مگر اس کا نام عبد الرحمن نہیں تھا جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے۔عبد الرحمن ایک نہایت نیک صحابی تھے۔وہ دیر سے اسلام لایا تھا۔بدر کے وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا مگر بعد میں جب اسلام لا یا تو نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ اس نے دکھایا۔حضرت ابو بکر کے جس بیٹے نے حضرت عثمان کے قاتلوں کے ساتھ تعاون کیا وہ اور ماں سے تھا اور حضرت عثمان پر جب اس نے حملہ کیا تو حضرت عثمان نے اس سے کہا کہ اگر اس جگہ پر تیرا باپ (یعنی ابو بکر) ہو تا تو یہ جرأت کبھی نہ کرتا۔تب اس کی ایمانی رگ پھڑک اٹھی اور وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔تاریخ اسلام نے کبھی اس کے ابو بکر کا بیٹا