انوارالعلوم (جلد 25) — Page 12
انوار العلوم جلد 25 12 سیر روحانی (8) نہیں پڑ سکتا۔ریویو بھی اس کو نہیں لے سکتا کیونکہ ریویو غیر ملکوں میں جانے والا رسالہ ہے۔اس کا اصل کام اسلامی نقطہ نظر سے لوگوں کو روشناس کرانا ہے اور چونکہ غیر ملکوں میں اس نے جانا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس میں جماعت اسلامی پر بحث کریں یا طلوع اسلام پر بحث کریں۔امریکہ کو یا جاپان کو یا سوئٹزرلینڈ کو یا آسٹریلیا کو یا نیوزی لینڈ کو یا انگلینڈ کو " طلوع اسلام " والوں سے یا جماعت اسلامی سے کوئی دلچسپی نہیں۔وہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں جانتے۔وہ ہمیں جانتے ہیں یا اسلام کے نام کو جانتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔اُن لوگوں کے سامنے خواہ مخواہ ان کے مضامین کو لانے کی کیا ضرورت ہے اِس لئے ریویو بھی ہمارے اس کام نہیں آسکتا۔پھر یہ ایک ایسا پرچہ ہے جو اردو میں نکلتا ہے اور اِس میں اس قسم کے مضامین نکلنے سے یقیناً فائدہ ہوتا ہے کیونکہ یہ مضامین زیادہ تر پاکستان میں زیر بحث آتے ہیں اور پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جن کو ان سے دلچسپی ہے۔خالد علاوہ اس کے خدام الاحمدیہ کا پرچہ "خالد" ہے۔وہ ایک خاص جماعت کا پرچہ ہے۔میں ساری جماعت کو تو نہیں کہتا۔اس جماعت کو کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر بیداری پیدا کرنے کے لئے اور اپنے مرکز سے یعنی خدام کے مرکزی دفتر سے وابستگی دنیوی اخبار رکھنے کے لئے "خالد" کی اشاعت اپنے حلقہ میں وسیع کرنے کی کوشش کرو۔پھر ہر جماعت کے لئے کوئی نہ کوئی دنیوی اخبار بھی چاہئے۔میں نے پچھلی دفعہ بھی کہا تھا کہ بعض اخبار ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے ہیں، بعض ایسے ہیں کہ جن کے ذریعہ سے ہمارا نقطہ نگاہ پہنچ جاتا ہے۔وہ گو ہمارے ساتھ شامل نہیں ہیں لیکن ہمارے میانہ روی کے جو خیالات ہیں ان سے وہ متفق ہیں۔اسی طرح بعض اخبارات ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ ایسے لوگوں کا تعلق ہے کہ جو ہمارے خیالات سے بالکل متفق ہیں گو وہ دنیوی اخبار ہیں۔تو ہمیں چاہئے کہ بہر حال ایسے اخبار خریدیں۔کیونکہ اگر ہم ان کو نہ خریدیں گے، دشمن کے اخباروں کو خریدیں گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم دشمن کو پیسہ دیتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرے