انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 330

انوار العلوم جلد 25 330 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات کے پاس بھجوایا تھا اور حضرت خلیفہ اول نے ان کو تسلی دی تھی کہ یہ الہام آپ کے لئے بُرا نہیں ہے۔اُس الہام کا مضمون یہ تھا کہ جب تک حضرت خلیفہ اول اور اُن کی بیوی زندہ رہیں گے اُن کی اولاد سے نیک سلوک کیا جاتا رہے گا لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسا پکڑے گا کہ ان سے پہلے کسی کو نہیں پکڑا ہو گا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ پچھلے 42 سال میں ہزاروں موقعے آپ کو مخالفت کے ملے لیکن اماں جی کی وفات تک کبھی بھی ننگے ہو کر آپ کو مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔لیکن جو نہی وہ فوت ہوئیں خدائی الہام پورا ہونے لگ گیا۔اور اگر خدا کی مشیت ہوئی تو اور بھی پورا ہو گا۔آپ نے لکھا ہے کہ آپ کے ہاتھوں سے ساری عمر میٹھی میٹھی قاشیں کھائی ہیں ایک کڑوی بھی سہی۔میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ سے گزشتہ تیس سال میں بہت سی خنجریں اپنے سینہ میں کھائی ہیں مگر اب چونکہ مسیح موعود علیہ السلام کے کلام اور سلسلہ احمدیہ کی حفاظت اور وقار کا سوال تھا مجھے بھی جواب دینا پڑا۔اگر وہ کڑوا لگتا ہے تو اپنے آر ملامت کریں یا موت کے بعد حضرت خلیفہ اول کی زبان سے ملامت سن لیں۔عبد الوہاب صاحب کا خط اللہ رکھا کے نام ہے۔میاں عبد الوہاب صاحب کا خط جو انہوں نے اللہ رکھا کے نام لکھا تھا شائع کیا جاتا برادرم! وَ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ گرامی نامه مشتمل بر تعزیت ملا۔جَزَاكُمُ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔آپ کے ساتھ تو ہم لوگوں کا بھائیوں کا تعلق ہے۔اس لئے آپ کو صدمہ لازمی تھا۔اس قسم کے حادثات زندگی کی بنیادوں کو ہلا دینے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی خاص مدد کرے۔آپ کا خط بہت تسلی آمیز ہے۔آپ بعافیت ہوں گے۔کوہ مری ضرور دیکھئے۔آپ کا بھائی عبد الوہاب عمر "13-4-1956