انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 11

انوار العلوم جلد 25 11 سیر روحانی (8) اس کو بھی دے دیتی ہے ) اس کے متعلق جو میرے پاس رپورٹ آئی تھی وہ شاید دو سویا ڈیڑھ سو کے قریب خریدار تھے۔باقی سارے کے سارے وہ ہیں جن کو جماعت کی طرف سے مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔یہ امریکہ میں جاتا ہے، انگلینڈ میں جاتا ہے، جرمنی میں جاتا ہے۔اسی طرح مختلف ممالک میں جاتا ہے۔یہ فلپائن سے جو بیعت آئی ہے غالباً یہ بھی اسی طرح آئی ہے۔ہم نے فلپائن وغیرہ میں بھی پرچے بھجوانے شروع کئے تھے۔تو یہ پہلی بیعت غالباً اسی ریویو کی اشاعت کی وجہ سے ہوئی ہے۔تو ریویو آف ریلیجنز کی طرف بھی جماعت کو توجہ ہونی چاہیے۔اب ہماری جماعت اتنی ہے کہ دس ہزار پرچہ شائع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔اس کی دس روپے قیمت ہے۔دس ہزار کے دس روپیہ قیمت ہوئی تو ایک لاکھ روپیہ ہو گیا۔تم سالانہ چندوں میں اٹھارہ بیس لاکھ اپنی خوشی سے دیتے ہو۔اب اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک لاکھ روپیہ سالانہ دے کر اس کو بیچنا شروع کریں تو یقیناً دو چار سال میں ہی چھپیں، تیس، چالیس ہزار وہ اپنی آمد خود پیدا کر لے گا۔اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ ممکن ہے اس سے بھی لاگت کم ہو جائے کیونکہ پرچہ جب زیادہ چھپے تو اُس کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔اس وقت اِس کی لاگت دس روپے ہے۔اگر یہ دس ہزار چھپے تو میں سمجھتا ہوں کہ آٹھ سات روپے ہو جائے گی اور ستر پچھتر ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہو گا۔اور یہ دس ہزار پرچہ دنیا کی تمام لائبریریوں میں جانا شروع کرے تو میں سمجھتا ہوں کہ سال دو سال کے اندر تہلکہ پڑ جائے گا۔فرقان چوتھا پرچہ ” فرقان“ ہے۔فرقان میں اس امر کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ علمی مضامین اس کے اندر آئیں اور جماعت اسلامی والے جو نئی نئی باتیں پیش کرتے ہیں یا "طلوع اسلام " والے پیش کرتے ہیں یا اہل قرآن یا بہائی پیش کرتے ہیں اُن کا جواب دیا جائے۔گویا جتنی نئی مذہبی تحریکیں ہیں اُن نئی مذہبی تحریکوں کے جواب کے لئے یہ رسالہ خصوصیت سے وقف ہے۔دوسرے اخبار یا رسالے ایسا نہیں کر سکتے۔الفضل یہ نہیں کر سکتا کیونکہ الفضل روزانہ اخبار ہے۔روزانہ اخبار ان باتوں میں