انوارالعلوم (جلد 25) — Page 322
انوار العلوم جلد 25 322 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات ذہنوں کو زہر آلود کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس فتنہ پرداز شخص کے گروہ سے ہماری جماعت کو محفوظ رکھے۔آخری دن اللہ رکھا منافق نے ایک مجلس میں خیبر لاج سے نکالے جانے پر یہ الفاظ بھی کہے کہ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں مجھے دھتکارنے والوں پر عذاب اور تباہی آجائے گی۔جس طرح 1953ء میں ہوا تھا اُسی طرح ہو گا اور مجھے کوئی بھی حضرت صاحب کی ملاقات سے نہ روک سکے گا۔ظہور القمر صاحب نے بتایا ہے کہ اُس نے میرے سامنے ڈیڑھ سال کے اندر اندر آنے والی تباہی کو خلافت کے متعلق قرار دیا تھا۔آخر میں میں حضور سے دوبارہ عرض کروں گا کہ چونکہ منافق اللہ رکھا کئی جماعتوں مثلاً لاہور، سیالکوٹ، جہلم، گجرات، کیمبل پور، کوہاٹ، پشاور، مردان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چنار اور بالاکوٹ تک دورہ کرتا رہا ہے۔اس لیے ہر جماعت سے اس منافق کے متعلق دریافت کر لیا جائے کہ ممکن ہے اس طریق سے اس فتنہ کا سراغ اور زیادہ واضح طور پر ہمارے سامنے آجائے۔(محمد صدیق شاہد ) افسوس ہے کہ سوائے کوہاٹ اور لاہور کے کسی جماعت نے اس شخص کے متعلق رپورٹ نہیں دی۔نہ سیالکوٹ نے ، نہ جہلم نے ، نہ گجرات نے ، نہ کیمبل پور نے، نہ پشاور نے ، نہ مردان نے ، نہ ایبٹ آباد نے ، نہ مانسہرہ نے ، نہ بالا کوٹ نے۔اس سے شبہ پڑتا ہے کہ ان جماعتوں میں بعض منافق لوگ موجود ہیں جن تک یہ شخص پہنچا ہے اور جنہوں نے اس کی کارروائیوں کو مرکز سے چھپایا ہے۔گجرات کے امیر عبد الرحمن صاحب خادم کو یقیناً اس کا علم ہونا چاہئے تھا کیونکہ اس شخص کو کوہاٹ کرایہ دے کر بھیجوانے والوں میں دو ان کے اپنے بھائی شامل تھے اور تیسرا ان کے بہنوئی راجہ علی محمد صاحب کا لڑکا تھا۔سیالکوٹ کی جماعت کو اس سے یہی ہمدردی ہو سکتی تھی کہ یہ شخص سیالکوٹ کا رہنے والا ہے۔پس امیر جماعت سیالکوٹ کی خاموشی افسوسناک ہے۔(اب سیالکوٹ سے خلیفہ عبد الرحیم صاحب کا خط باوجود بیماری کے آگیا ہے) اس کا ہزارہ کا دورہ کرنا بالکل واضح ہے کیونکہ اس کے دوستوں میں سے ایک شخص کے پاس ہزارہ کا ایک منافق احمدی