انوارالعلوم (جلد 25) — Page 321
انوار العلوم جلد 25 321 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات ان کے مسجد کے خادم، امام اور مبلغ کے ساتھ اس کی دوستی تھی اور یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ وہ خبیث اپنے آپ کو احمدی کہتا ہوا پیغامیوں کا لٹریچر تقسیم کرتا رہا ہے۔ایک بات ایسی بھی معلوم ہوئی ہے جس سے اس پارٹی کے سرغنہ کا پتہ لگتا ہے۔وہ یہ کہ جتنے دن وہ مری میں رہا ہے مولوی صدر دین سے لڑتا جھگڑ تا رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو منافق، بے عمل اور جاسوس کہتے رہے ہیں۔اس سلسلہ میں ایک رقعہ بھی ملا ہے جس میں اللہ رکھانے مولوی صدر دین سے ان کا مشن اور گزشتہ زندگی کا حال پوچھا ہے۔اس ساری کارروائی سے اتنا ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ منافق اللہ رکھا، میاں محمد صاحب ( لائلپوری سابق پریذیڈنٹ انجمن پیغامیاں) کی پارٹی کا آدمی ہے اور اُس کے اشارہ پر ناچ رہا ہے۔حضور کے ربوہ جانے کے بعد خیبر لاج میں عید الاضحیٰ کے متعلق ایک واقعہ بھی ہوا ہے جس سے اللہ رکھا کی منافقت کا پتہ لگتا ہے۔وہ یہ کہ مسجد احمد یہ میں ہم سب کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ مرزا ناصر احمد صاحب عید کی نماز پڑھائیں گے۔اس پر اللہ رکھانے کہا میں میاں ناصر کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا کیونکہ رتن باغ میں ایک دفعہ میں اُن سے لڑ چکا ہوں۔اس لئے میں تو پیغامیوں کی مسجد میں نماز پڑھوں گا۔اس پر میں نے کہا اگر تم نے میاں صاحب کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی تو ابھی ہماری مسجد سے نکلو اور آج سے ہمارا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا۔اس پر وہ منافق نماز عید پڑھنے کے لئے تیار ہو گیا جس پر اس کی منافقت پر پھر پردہ پڑ گیا۔اس واقعہ کے متعلق پنڈت ظہور القمر صاحب کی شہادت شائع ہو چکی ہے۔ایک بات جو سب سے زیادہ اہم معلوم ہوئی ہے اور جس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ اس منافق کے پیچھے پیغامی گروہ کا ضرور ہاتھ ہے۔اور وہ یہ ہے کہ کوہاٹ کی طرح اس منافق نے مری میں بھی چند احمدیوں کے سامنے مری سے جاتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اب تو لاہوریوں کی نظر خلیفہ اول کی اولاد پر زیادہ پڑتی ہے اور وہ میاں عبد المنان صاحب کی زیادہ تعریف کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک وہ زیادہ قابل ہیں۔ہمارے خلیفہ کی زندگی میں پیغامی گروہ کا اس قسم کا پرو پیگنڈا ان کی سازشوں کا پتہ دیتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی سے لوگوں کے