انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 309

انوار العلوم جلد 25 309 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات فوراً جھک کر وہ کاغذ اٹھایا اور اُسی وقت پنسل سے اُس کی نقل کرنی شروع کر دی اور مولوی صاحب کے سامنے ہی دوسرے مہمانوں سے اُس پر دستخط کروانے شروع کر دیئے۔اس پر بیالیس سال گزر گئے میں اُس وقت جو ان تھا اور اب 68 سال کی عمر کا ہوں اور فالج کی بیماری کا شکار ہوں۔اُس وقت آپ لوگوں کی گردنیں پیغامیوں کے ہاتھ میں تھیں اور خزانے میں صرف اٹھارہ آنے کے پیسے تھے۔میں نے خالی خزانہ کو لے کر احمدیت کی خاطر اُن لوگوں سے لڑائی کی جو کہ اُس وقت جماعت کے حاکم تھے اور جن کے پاس روپیہ تھا لیکن خدا تعالیٰ نے میری مدد کی اور جماعت کے نوجوانوں کو خدمت کرنے کی توفیق دی۔ہم کمزور جیت گئے اور طاقتور دشمن ہار گیا۔آج ہم ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور جن لوگوں کو ایک تفسیر پر ناز تھا اُن کے مقابلہ میں اتنی بڑی تفسیر ہمارے پاس ہے کہ اُن کی تفسیر اس کا تیسر ا حصہ بھی نہیں۔جو ایک انگریزی ترجمہ پیش کرتے تھے اُس کے مقابلہ میں ہم چھ زبانوں کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔لیکن ناشکری کا بُرا حال ہو کہ وہی شخص جس کو پیغامی سٹرا بہتر اقرار دے کر معزول کرنے کا فتویٰ دیتے تھے اور جس کے آگے اور دائیں اور بائیں لڑ کر میں نے اُس کی خلافت کو مضبوط کیا اُس سے تعلق رکھنے والے چند بے دین نوجوان جماعتوں میں آدمی بھجوا رہے ہیں کہ خلیفہ بڑھا ہو گیا ہے اسے معزول کرنا چاہئے۔اگر واقع میں میں کام کے قابل نہیں ہوں تو آپ لوگ آسانی کے ساتھ ایک دوسرے قابل آدمی کو خلیفہ مقرر کر سکتے ہیں اور اُس سے تفسیر قرآن لکھو اسکتے ہیں۔میری تفسیریں مجھے واپس کر دیجئے اور اپنے روپے لے لیجئے۔اور مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر یا اور جس تفسیر کو آپ پسند کریں اُسے پڑھا کریں۔اور جو نئی تفسیر میری چھپ رہی ہے اُس کو بھی نہ چھوئیں۔یہ اول درجہ کی بے حیائی ہے کہ ایک شخص کی تفسیروں اور قرآن کو دنیا کے سامنے پیش کر کے تعریفیں اور شہرت حاصل کرنی اور اُسی کو نکما اور ناکارہ قرار دینا۔مجھے آج ہی اللہ تعالیٰ نے الہام سے سمجھایا کہ "آؤ ہم مدینہ والا معاہدہ کریں"۔یعنی جماعت سے پھر کہو کہ یا تم مجھے چھوڑ دو