انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 307

انوار العلوم جلد 25 307 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات میری موت کے متمنی اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دوست سمجھنا اور دوسری طرف مجھ سے دعاؤں کی درخواست کرنا۔مہربانی کر کے یہ لوگ جن کا نام مولوی صدیق صاحب کے بیان میں ہے یعنی قاضی محمد یوسف صاحب امیر سرحد، حافظ مختار احمد صاحب اور مولوی خورشید احمد صاحب منیر مربی لاہو ر وہ بھی بتائیں کہ ان کا اس شخص کے ساتھ کیا تعلق ہے یا اس نے اپنے ساتھیوں کی عادت کے مطابق افتر ا سے کام لیا ہے۔جن لوگوں کا نام اس شہادت میں آیا ہے ان کے متعلق میرے پاس مزید شہادتیں پہنچ چکی ہیں۔عنقریب میں ان کو مکمل کر کے شائع کروں گا اور اگر ان لوگوں کی طرف سے چھیڑ خانی جاری رہی تو میں غور کروں گا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔اور میں جماعت کی بھی نگرانی کروں گا کہ وہ اللہ رکھا اور اس کی قماش کے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔جماعت کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ تذکرہ میں پسر موعود کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات شائع ہوئے ہیں ان الہامات کے خاص خاص حصے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پرائیویٹ طور پر حضرت خلیفہ اول کو کیوں لکھے ؟ آخر مستقبل سے کچھ تو اس کا تعلق تھا۔کیوں نہ حضرت صاحب نے سب باتیں سبز اشتہار میں لکھ دیں اور کیا وجہ ہے کہ پیر منظور محمد صاحب موجد قاعدہ یشر نا القرآن نے جو حضرت خلیفہ اوّل کے سالے بھی تھے جب حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں پسر موعود پر ایک رسالہ لکھا تو اس پر حضرت خلیفہ اول نے یوں ریویو کیا کہ میں اس مضمون سے متفق ہوں۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ میں مرزا محمود احمد کا بچپن سے کتنا ادب کرتا ہوں۔اس تبصرہ کی بھی کوئی حکمت تھی۔اس کی کاپیاں اب تک موجود ہیں اور غالباً حضرت خلیفہ اول کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ریویو کا چربہ بھی اب تک موجود ہے"۔مرزا محمود احمد (خلیفة المسیح الثانی) "23-7-1956 (الفضل 25 جولائی 1956ء)